تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 99
یہ دعویٰ پیش کرتے ہو کہ فلاں فلاں کام فلاں معبود باطل نے کیا ہے۔جب یہ تمام امور خدا تعالیٰ ہمیشہ سے کرتا ہے تو ان امور کے خاص خاص ظہوروں کو تم کس طرح کسی اور ہستی کی طرف منسوب کرسکتے ہو۔خدا تعالیٰ جب ہمیشہ سے مردوں سے زندے پیدا کرتا چلا آیا ہے تو کس طرح یہ کہہ سکتے ہو کہ فلاں بچہ فلاں فلاں بت نے یا فلاں معبود نے دیا ہے۔جو ہمیشہ سے دیتا چلا آیا ہے کیوں نہ کہا جائے کہ اسی نے یہ بچہ بھی دیا ہے؟ مردہ سے زندہ نکالنے کے معنے مردہ سے زندہ نکالنے سے اس جگہ یہ مراد نہیں کہ حیات مردہ چیز سے پیدا ہوسکتی ہے۔اس جگہ بحث بظاہر مردہ نظر آنے والی چیزوں سے زندگی کے پیدا ہوجانے کی ہے۔فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ پس وہ اللہ (تعالیٰ)ہی (کی ہستی) ہے (جو ایسا کرتی ہے) (اور و ہی) تمہارا (حقیقی) رب (ہے )پھر حق کو چھوڑ کر فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ۰۰۳۳ گمراہی کے سوا کیا(حاصل ہو سکتا) ہے۔پھر کس طرح تم (اور اور طرف) پھیرے جارہے ہو۔حلّ لُغَات۔ضَلَالٌ اَلضَّلَالُ اَلْھَلَاکُ ہلاکت اَلْفَضِیْحَۃُ رسوائی اَلْبَاطِلُ جھوٹ ضِدُّ الْھُدٰی گمراہی۔(اقرب) علّامہ ابوحیّان بحرمحیط میں لکھتے ہیں اَلْحَقُّ وَالضَّلَالُ لَاوَاسِطَۃَ بَیْنَھُمَا۔اِذْھُمَا نَقِیْضَانِ فَمَنْ یُّخْطِئُی اَلْحَقَّ وَقَعَ فِی الضَّلَالِ حق اور ضلال کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔کیونکہ وہ ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔اس لئے جو شخص حق کو چھوڑے گا وہ ضرور باطل میں جا پڑے گا۔پس بَعْدَالْحَقِّ کے معنی ہوئے ’’حق کو چھوڑ کر‘‘۔تفسیر۔رُبُّکُمْ الْحَقّ اور مَوْلٰھُمُ الْحَقّ کے مفہوم میں فرق اور مضمون کی ترتیب اس آیت میں رَبُّكُمُ الْحَقُّ فرمایا ہے اور آیت نمبر ۳۰ میںمَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ فرمایا تھا۔کیونکہ وہاں جزاء و سزاء کا ذکر تھا اور یہاں تکمیل مدارج کا ذکر ہے۔اور تکمیل مدارج کے مطابق رب کی صفت ہی ہے کیونکہ اس کے معنی ہیں پیدا کرکے تکمیل تک پہنچانے والا۔پس اس آیت میں پہلی آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کرکے بتایا گیا ہے کہ وہ خدا جو انسان کو اس طرح درجہ بدرجہ ترقی دے کر کمال تک پہنچاتا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے ذرائع کو اختیار کرنا نادانی ہے۔رَبُّکُمْکی صفت اَلْحَقّ لانے کی وجہ رَبُّکُمْ کی صفت الْحَقّ بیان فرماکر بتایا ہے کہ رب دو قسم کے ہوسکتے