تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 98
مشین کو چلایا کرتا ہے یا تباہ کرتا ہے؟ کوئی دانا اپنی چیز کو تباہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔بلکہ اس سے کام لینے کی کوشش کرتا ہے۔پس ان سے پوچھو کہ خدا تعالیٰ اس کارخانۂ عالم کو جس میں اس کی قدرت کا ظہور ہورہا ہے کیوں جلدی اور عجلت سے تباہ کردے؟ اسے تو اس کارخانہ کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔نہ کہ تباہ کرنے کی۔یہ اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ جب انذار کی خبر دی گئی تھی تو کیوںوہ فوراً پوری نہیں کی گئی؟ خدا تعالیٰ کے رحم سے فائدہ اٹھاؤ اِتَّقَا کے معنی ہیں کسی کو اپنے بچاؤ کا ذریعہ بنانا۔پس اَفَلَا تَتَّقُوْنَ کا یہ مطلب ہے کہ صداقت کے ان اصول کو دیکھ کر تم خدا کو اپنا محافظ کیوں نہیں بناتے۔یعنی جب تمام قانونِ قدرت میں رحم کا اور ڈھیل کا پہلو غالب نظر آتا ہے تو تمہیں چاہیے تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے صلح کرنے کی کوشش کرتے نہ یہ کہ بار بار عذاب پر زور دیتے۔رزق، سمع بصر ،موت و حیات اور تدبیر امر کا تعلق اور ترتیب اس آیت کی ترتیب پر غور کرو کیسی بے نظیر ہے! اول رزق کا ذکر فرمایا ہے جو بقائے حیات کا موجب ہوتا ہے۔پھر کان اور آنکھ کا ذکر کیا ہے جو عقل کا ذریعہ ہیں۔پھر موت اور حیات کا ذکر کیا ہے جو قوت عملیہ پر دلالت کرتی ہے۔جو عقل کے بعد آتی ہے۔پھر تدبیر کا ذکر کیا ہے جس کی اعمال کے شروع کرنے پر ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ تدبیر کے معنی ہی یہ ہیں کہ مختلف اعمال میں صحیح نظام قائم رکھا جائے۔غرض انسان کی پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے جن چار ذرائع کی ضرورت ہے ان چاروں کو علی الترتیب پیش کیا ہے۔اور پوچھا ہے کہ بتاؤ کہ کوئی نادان ایسا ہوگا کہ جو حیات پیدا کرے پھر احساس پیدا کرے۔پھر قوت عملیہ پیدا کرے۔پھر اعمال کے لئے ایک نظام مقرر کرے اور پھر یہ سب کچھ پیدا کرکے انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جائے اور ان اسباب کو کسی خاص مقصد کے لئے لگانے کی ہدایت نہ دے۔ہر اک جو ذرہ بھر بھی عقل رکھتا ہو سمجھ سکتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ان ضروریات اور سامانوں کے پیدا کرنے کا اصل مقصد جو ہستی ان چار امور کو پیدا کرے گی وہ ضرور ان امور کے لئے کوئی خاص مقصد بھی مقرر کرے گی۔پس یہ امر خیال میں بھی نہیں لایا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ بغیر رہنمائی کے بندوں کو چھوڑ دے گا۔اور الہام اور وحی سے ان کو ممتاز نہ کرے گا۔یا پھر ہدایت کا موقع دینے سے پہلے ہی ان کو ہلاک اور تباہ کر دے گا۔اگر اس قدر جلد عذاب دینا اسے مطلوب ہوتا تو اس قدر لطیف سلسلہ کو پیدا ہی کیوں کرتا؟ اس آیت میں شرک کا رد بھی ہے اور بتایا ہے کہ جب اصولی طور پر تم تسلیم کرتے ہو کہ رزق دینے والا قوائے انسانیہ پیدا کرنے والا حیات و ممات پیدا کرنے والا اور تدبیر امور کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے تو پھر کن وجوہ پر تم