تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 97

کو تلوار اور لالچ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اور کبھی اس کی بزعم خود گری ہوئی اخلاقی تعلیم کی طرف۔زمین اور آسمان دونوںسے رزق آتا ہے اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان دونو سے رزق آتا ہے یعنی ایک جگہ کا رزق کافی نہیں ہوتا۔اگر پانی برستا رہے اور زمین میں اگانے کی طاقت نہ ہو تو یہ کافی نہیں۔اسی طرح اگر پانی نہ برسے یا اس کے برسنے میں دیر ہوجائے تو زمین کی اگانے کی طاقت کافی نہیں ہوتی۔اسی طرح خالی عقل انسان کی روحانی ہدایت کے لئے کافی نہیں۔انسانی دماغ زمین کے مشابہ ہے جب تک اس پر الہام کی بارش نہ برسے وہ کبھی بھی روحانی روئیدگی جو روحانی غذا کا کام دے پیدا نہیں کرسکتا۔پس تم لوگ کس طرح دعویٰ کرسکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے الہام کے بغیر آپ ہی آپ تم خدا تعالیٰ کو پا لو گے۔عقل بے شک ضروری شیئے ہے مگر جس طرح آنکھ بغیر سورج کی روشنی کے نہیں دیکھ سکتی وہ بھی بغیر الہام کے صحیح نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتی۔جس نے کان اور آنکھیں دی ہیں ممکن نہیں اس نے ان کی اصل غرض کو پورا کرنے کا انتظام نہ کیا ہو پھر فرمایا تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے۔اگر ان کا کوئی اور مالک ہو اور ہدایت دینا کسی اور کا کام ہو تو بے شک تم کہہ سکتے ہو کہ ہدایت دینے والے نے پرواہ نہیں کی۔اور روحانی کانوں اور آنکھوں کے لئے ان کا کام مہیا نہیں کیا۔لیکن جس نے کان اور آنکھیں دی ہیں اگر اسی کا کام ہدایت دینا ہے تو کیا یہ بے وقوفی کی بات نہیں ہوگی کہ وہ کان اور آنکھیں تو پیدا کرے لیکن جو کام ان سے لینا ہے اس کا انتظام وہ نہ کرے؟ جب وہ مردوں سے زندہ پیدا کرتا ہے تو کوئی وجہ نہیں مردہ دلوں کو دوبارہ زندگی حاصل کرنے کا موقع نہ دے اسی طرح فرماتا ہے دیکھو کون زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کررہا ہے۔یعنی اچھوں سے برے اور بروں سے اچھے پیدا ہورہے ہیں۔یا مردوں سے زندہ نکل رہے ہیں۔زمین میں کھاد ڈالتے ہیں جو فضلہ یعنی مردہ چیز ہوتی ہے لیکن اس سے سبز کھیتی نکل آتی ہے۔اسی طرح سبز کھیتی فضلہ بن کر مردہ ہو جاتی ہے۔جب یہ کام تمہیں نظر آرہا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ مردوں سے زندے اور زندوں سے مردے نکل رہے ہیں تو تم کس طرح امید کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ انکار پر فوراً لوگوں کو سزا دے دے۔اور اصلاح کا موقع نہ دے؟ جب ایک بظاہر مردہ چیز سے زندگی کے سامان پیدا ہونے لگتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایک مردہ دل سے کسی وقت روحانی زندگی کا چشمہ نہ پھوٹ پڑے؟ اور جب یہ امکان باقی ہے تو اللہ تعالیٰ کیوں نہ لوگوں کو ڈھیل دے تاکہ جو لوگ زندہ ہونے والے ہیں وہ زندہ ہو جائیں؟ پھر فرماتا ہے دیکھو وَ مَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ۔کون تدبیر کررہا ہے۔تمام کام کون چلاتا ہے؟ وہ کہیں گے اللہ۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جس کے سپرد کام کاچلانا ہو وہ اسے تباہ کر دے؟ مشین پر کام کرنے کے لئے جو آدمی مقرر ہوتا ہے وہ