تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 96

کی حقیقت بالکل اور بعض کی پورے طور پر اگلے جہان میں ہی کھلے گی۔اور اس وجہ سے اصل فیصلہ بھی وہیں ہوگا۔اور جو اصل مالک ہے وہ فیصلہ کرے گا۔ا ور بوجہ حقیقت کے کھل جانے کے سب جھوٹ بھول جائیں گے۔مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ کہہ کر ایک تو ان تمام معانی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو اس لفظ مولا کے ہیں۔اور دوسرے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ عادل قائم بذاتہ اور منعم خدا کو چھوڑ کر کہاں جاسکتے ہیں۔اور ایسی ہستی کے عذاب سے کیونکر بچ سکتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے؟ ضَلَّ عَنْہُمْ کے معنی ضَلَّ عَنْهُمْ میں دو باتیں بتائی ہیں ایک تو یہ کہ وہ خود اپنے اعمال کو بھول جائیں گے کیونکہ جب انسان کو اپنے قصور کا علم ہوتا ہے تو وہ اسے بھلانے کی کوشش کرتا ہے۔دوسرے یہ کہ ان اعمال کا انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ تو (ان سے) کہہ(کہ بتاؤ) آسمان اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے۔یا (یہ کہ) السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ يُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ کانوں اور آنکھوں پر کون قابو رکھتا ہے اور کون (ایک)مردہ (چیز) میں سے زندہ (چیز) نکالتا اور زندہ (چیز) الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ مَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ١ۚ میں سے مردہ (چیز) نکالتا ہے اور کون ( اس) امر کا انتظام کرتا ہے۔اس پر وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ(تعالیٰ کرتاہے) فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۰۰۳۲ تب (انہیں)کہہ(کہ پھر وجہ)کیا (ہے کہ) پھر (بھی )تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔تفسیر۔اس آیت میں زبردست دلائل توحید بیان ہونے کا عیسائی مصنفین کی طرف سے اقرار چند ہی ایسی جگہیں ہیں جہاں عیسائی مفسروں نے تعریف کی ہے۔ان مقامات میں سے ایک یہ بھی ہے۔ویری صاحب لکھتے ہیں کہ اس آیت میں توحید کی تائید میں بہت زبردست دلیلیں دی گئی ہیں۔اور لکھا ہے کہ اسلام کی کامیابی کا ایک بہت بڑا ذریعہ یہ تعلیم ہے۔لیکن تعجب ہے کہ اسی منہ سے پھر پادری صاحبان اسلام کی کامیابی