تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 2
میں اعوذ کا پڑھنا چونکہ ثابت ہے اس لئے اس حکم سے زیادہ تر قرآن کریم کے شروع کرنے سے پہلے اعوذ پڑھنا مراد لیا جائے گا۔چنانچہ جبیر بن مطعمؓ سے بیہقی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کی ہے۔اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلٰوۃِ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ(سنن الکبریٰ للبیہقی و المصّنف لابن شیبۃ کتاب الصلوٰۃ)۔یعنی تکبیر کے بعد تلاوت سے پہلے آپؐ اعوذ پڑھا کرتےتھے۔ابوداؤد نے ابوسعیدؓ سے روایت کی ہے کہ نماز کی ابتدا میں تسبیح و تحمید کے بعد تلاوت سے پہلے آپؐ اعوذ پڑھتے تھے(ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب من رأی الاستفتاح بسبحانک )۔ابوداؤد میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آیاتِ اِفک کی تلاوت سے پہلے آپ نے اعوذ پڑھا (ابو داؤدکتاب الصلوٰۃ و درمنثور تحت قولہ تعالٰی فاذا قرأت القرآن فاستعذ باللّٰہ)۔الفاظ قرآنی بھی اس کے مخالف نہیں۔کیونکہ قَرَأَ کے معنی پڑھنا شروع کرنے اور ختم کرنے دونوں کے ہوسکتے ہیں