تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 1

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ استعاذہ کا حکم قرآن کریم میں حکم ہے کہ اس کے پڑھنے سے پہلے اعوذ پڑھ لینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ (النحل : ۹۹) کہ جب تو قرآن پڑھنے لگے تو اس سے پہلے اللہ تعالیٰ سے استعاذہ کرلیا کر یعنی ہر قسم کے شرور کے مقابلہ کے لئے خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی پناہ مانگ لیا کر۔پناہ دو قسم کی ہوا کرتی ہے۔ایک پناہ ہوتی ہے اس بات سے کہ کوئی شر ہمیں نہ پہنچ جائے۔اور ایک پناہ ہوتی ہے اس بات سے کہ کوئی خیر ہمارے ہاتھوں سے نہ نکل جائے۔فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ کے حکم میں دونو قسم کی پناہ شامل ہے۔یعنی ایسا نہ ہو کہ اپنے دل کی کسی بیماری کی وجہ سے یا کسی بد صحبت کی وجہ سے یا کسی گناہ کی سزا کی وجہ سے یہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے۔یا یہ کہ اس تعلیم کے صحیح طور پر سمجھنے سے تم قاصر رہو۔اور کوئی شر کا پہلو تمہارے لئے پیدا ہو جائے۔اس استعاذہ کو عملی صورت دینے کے لئے جو دعا سکھلائی گئی ہے وہ اَعُوْذُبِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ کی دعا ہے۔تقدیم استعاذہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس حکم سے آخر میں اعوذ پڑھنے کا حکم نکلتا ہے نہ کہ شروع میں۔چنانچہ قرآن کریم کے آخر میں ہی اعوذ کی دونو سورتیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس رکھی گئی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسان آخر میں بھی اعوذ پڑھے تو اور بھی اچھی بات ہے مگر سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابتداء