تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 82

سمندر میں ڈوبے ہزاروں سال گذر گئے۔وہ فقیہی اور فریسی جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا تھا ان پر بھی دو ہزار سال گذر گئے۔ابوجہل کو جنگِ بدر میں ہلاک ہوئے بھی چودہ سو سال ہو گئے۔مگر آج بھی ہر شریف انسان نمروؔد کا نام لیتا ہے تو اس پر لعنت ڈالتا ہے۔فرعون کا نام لیتا ہے تو اس پر لعنت ڈالتا ہے۔فقیہیوں اور فریسیوں کا ذکر آتا ہے تو ان پر لعنت ڈالتا ہے ابوجہل کا ذکر آتا ہے تو اس پر لعنت ڈالتا ہے۔حضرت عثمانؓ کو شہید کرنے والوں کا ذکر آتا ہے تو ان پر لعنت ڈالتا ہے اور پھر اگلے جہان میں جو انہیں عذاب دیا جا رہا ہے اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔غرض یہ عذاب برابر جاری ہے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرستادوں کا مقابلہ کیا۔وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۶۴ اور تمہارا معبود(اپنی ذات میں )واحد معبود ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے تمہارا خدا تو ایک ہی خدا ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور پھر وہ رحمٰن اور رحیم ہے ایسی کامل صفات رکھنے والے خدا پر ایمان رکھتے ہوئے تمہیں اپنے دشمنوں سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہاری حفاظت کے لئے تمہارا خدا موجود ہے۔پس تم اس پر توکل رکھو اور اُسی سے مدد مانگتے رہو۔وہ تمہارے دشمن کو تم پر کبھی غالب نہیں آنے دےگا۔اور خواہ تمہاری کشتی مشکلات کے بھنور میں کتنے بھی چکر کھائے پھر بھی وہ تمہیں اس میں سے نکال کر ساحل کامیابی پر پہنچا دے گا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں بہشتی مقبرہ سے ایک کشتی پر آرہا ہوں اور میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں۔راستہ میں کثرت سے پانی ہے اور ایک طوفان سا آیا ہوا معلوم ہوتا ہے جب ہم پُل والی جگہ کے قریب پہنچے۔جہاں پہلے صرف دو لکڑیاں لوگوں کے آنے جانے کے لئے رکھی رہتی تھیں تو وہاں میں کیا دیکھتا ہوں کہ کشتی بھنور میں پھنس گئی ہے اور چکر کھانے لگی ہے اس سے سب لوگ جو کشتی میں بیٹھے تھے ڈرنے لگے جب ان کی حالت مایوسی تک پہنچ گئی تو یکدم پانی میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک تحریر تھی اور اس میں لکھا تھا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے ان سے درخواست کرو تو کشتی بھنور میں سے نکل جائےگی۔میں نے کہا۔یہ تو شرک ہے میں اس کے لئے ہرگز تیار نہیں خواہ ہماری جان چلی جائے میں جوں جوں انکار کرتا گیا چکر بڑھتے گئے۔اس پر میرے