تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 76
خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سے جو استدلال میں نے کیا تھا وہی صحیح ہے۔کیونکہ تحویلِ قبلہ کے مسئلہ سے صفا اور مروہ کے شعائر ہونےکا کوئی تعلق نہیں اور پھر مسلمان تو وہاں جاہی نہیں سکتے تھے کہ صفا اور مروہ کا خاص طور پر ذکر کیا جاتا۔دراصل اس آیت میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم فتح مکہ کی کوشش کرو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارے لئے حج کا راستہ کھل جائےگا۔اور صفا اور مروہ پر جانا بھی تمہارے لئے ممکن ہو جائےگا۔اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ جو لوگ اس (کلام) کو جو ہم نے کھلے نشانوں اور ہدایت پر مشتمل نازل کیا ہے۔بعد اس کے کہ ہم نے اسے لوگوں بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ کےلئے اس کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے چھپاتے ہیں۔ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور وَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ۰۰۱۶۰ (دوسرے)لعنت کر نے والے (بھی) لعنت کر تے ہیں۔حل لغات۔بَیّنٰتٌ بَیِّنَۃٌ کی جمع ہے اوربَیِّنٰتٌ اُن براہین اور نشانات کو کہتے ہیںجو اپنی صداقت پر آپ شاہد ہوتے ہیں۔البینة کے معنے ہیں الدلیل الحجّة دلیل۔(اقرب) ھُدٰ ی وہ تعلیمات جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔اور انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں۔لَعْنَۃٌ دُور کرنے کو کہتے ہیں۔یعنی کسی کو دھتکاریا جھڑک کر دُور کر دینا۔یا اُسے پاس نہ آنے دینا۔تفسیر۔لَا عِنٌ کے معنے لعنت کرنے والے کے ہوتے ہیں۔مگر لعنت کرنے والے دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔اوّل وہ شخص جسے دوسروں پر لعنتیں ڈالنے اور بُرا بھلا کہنے کی عادت ہو۔یہ معنی یہاں چسپاں نہیں ہو سکتے کیونکہ جو شخص اپنے بھائیوں پر لعنتیں ڈالنے والا ہو وہ بداخلاق اور منافق ہوتا ہے اور قرآن کریم کے خلاف عمل کرتا ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ اس قسم کے بد اخلاق اور منافق طبع لوگ خدا تعالیٰ کا ساتھ دیں۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ظل نہیں ہوتے۔لَا عِنٌ سے ایسا شخص بھی مراد ہو سکتا ہے جس کے سپرد اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہو اور وہ لوگ جن کو ایسے فرائض سپرد کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور مامورین ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام پا کر یہ اعلان کر