تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 75

عورت کے قصور کی وجہ سے مرد کو غصہ ہے۔تو وہ چھوڑ دے اور اگر عورت کا قصور نہیں تو مرد اپنی اصلاح کر لے۔پس جس طرح اس آیت میں صلح کے متعلق فَلَا جُنَاحَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اسی طرح فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا میں جہاں اسے ناجائز سمجھنے والوں کے خیال کی نفی کی گئی ہے وہاں لوگوں کو نصیحت بھی کی گئی ہے کہ صفا اور مروہ کا طواف کوئی گناہ کی بات نہیں یعنی تم جو ادھر تو جہ نہیں کر رہے تو شاید گناہ سمجھ کر نہیں کر رہے حالانکہ یہ تو ضروری بات ہے۔وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص نیکی کے کاموں میں اس لئے حصہ لیتا ہے کہ ان کے بدلہ میں اُسے کوئی چیز مل جائے تو یہ ایک سودا ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے سودا کرنا کوئی پسندیدہ فعل نہیں۔عبادت تو انسان کو اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کے شکر کے طور پر بجا لانی چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اُس پر کئے ہیں۔نہ اس لئے کہ اگر میں نے عبادت نہ کی تو مجھے کوئی انعام نہیں ملے گا۔عبادت کے مقابلہ میں انعام کی خواہش ایک ادنیٰ خواہش ہے۔اصل مقام یہی ہے کہ انسان محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے بے پایاں احسانات کے شکر کے طور پر اپنا سر اُس کے حضور جھکا ئے اور رات دن اُس کی عبادت میں مشغول رہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا کے الفاظ سے وجوب طواف کی نفی نہیں کی گئی بلکہ مراد یہ ہے کہ عمرہ جتنی بار کرو اتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا۔اسی طرح حج بھی اگر ایک سے زیادہ دفعہ کر سکو تو یہ بھی تمہارے لئے موجب ثواب ہو گا۔گویا اس آیت میں وجوبِ طواف کی نفی نہیں بلکہ یہ تحریک کی گئی ہے کہ حج اور عمرہ دونوں باربار کرنے چاہئیں اور بار بار ان مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے آتے رہنا چاہیے۔فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔فرمایاتم خدا تعالیٰ سے سودا نہ کرو بلکہ اُسی پر سچا توکل رکھو۔وہ تمہاری نیکیوں کو کبھی ضائع نہیں کرےگا اور تمہیں خود ان کی بہتر سے بہتر جزا دےگا۔وہ بہت قدردان اور بہت جاننے والا ہے۔شاکر کے ساتھ علیم کا اضافہ اس لئے فرمایاکہ انسان کو جو جزائیں ملتی ہیں اُن کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔بعض جزائیں انسان کو تباہ کر دینے والی ہوتی ہیں اور بعض اس کےلئے مفید اور بابرکت ہوتی ہیں۔اگر کسی اندھے کو عینک لگانے کےلئے دی جائے یا کسی جذامی کو اچھے کپڑے دے دئیے جائیں تو وہ چیزیں اُن کے کسی کام نہیں آسکتیں۔خواہ وہ کتنی قیمتی کیوں نہ ہوں۔اسی لئے فرمایا میں تمہارے حالات کوخوب جانتا ہوں اُنہی کے مطابق میں تمہیں انعام دو ںگااور تمہیں ایسی جزا دو ںگا جو تمہیں دائمی طور پر فائدہ پہنچا نےوالی ہوگی۔ترتیب وربط: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ والی آیت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وَمِنْ حَیْثُ