تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 70
اور صراطِ مستقیم پر قائم ہوتے ہیں۔یہاں یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت کے راستہ پر لئے جائے گا اور وہ اپنے اخلاص اور ایمان میں آگے ہی آگے بڑھتے جائیںگے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ مشکلات اور مصائب میں اللہ تعالیٰ انہیں صحیح راستہ بتاتا جائےگا اور مشکلات کے ساتھ ساتھ ان کا حل بھی انہیں نظر آتا جائےگا۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ بندہ جب سچے دل سے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ کہتا ہے اور مصائب پر صبر سے کام لیتا ہے تو مومن کی یہ حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ بھی عرش پر بیتاب ہو جاتا ہے۔اور وہ اس محبت اور اخلاص کی جزا دینے کے لئے اُسے اپنی ہدایت کی راہوں پر چلاتے ہوئے منزلِ مقصود پر پہنچا دیتاہے۔گویا صبر اور استقامت کے نتیجہ میں وہ منعم علیہ گروہ میں شامل ہو جاتا ہے اور وصلِ الہٰی کے دروازے اس پر کھول دیئے جاتے ہیں۔غرض تین قسم کے انعامات کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے۔(۱)اول ہدایت کی راہوں میں ترقی(۲) دوم مشکلات میں صحیح راہنمائی(۳) سوم خدا تعالیٰ کا دائمی وصال۔اور جن کو یہ فوائد حاصل ہوں ان کو اپنے کسی عارضی نقصان کا خیال بھی کس طرح آسکتا ہے۔اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ صفا اور مروہ یقیناً اللہ (تعالیٰ) کے نشانات میں سے ہیں۔سو جو شخص اس گھر (یعنی کعبہ) کا حج یا اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ عمرہ کرے تو اسے اِن کے درمیان تیز چلنے پر کوئی گناہ نہیں۔اور جو شخص خوشی سے کوئی نیک کام کرے(وہ سمجھ لے کہ) خَيْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيْمٌ۰۰۱۵۹ اللہ (نیک کاموںکا) قدردان ہے(اور وہ) بہت جاننے والا ہے۔حلّ لُغات۔صَفَا صَفَاۃٌ کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں سخت موٹے پتھر جن پر مٹی نہ ہو۔اور کھیتی بھی نہ ہو سکے۔صفا بیت اللہ کے پاس بڑے بڑے پتھروں کی ایک پہاڑی کا بھی نام ہے۔(اقرب) اَلْمَرْوَۃَ یہ مَرْوٌ کا مفرد ہے اور مروہ ان سفید چھوٹے چھوٹے چمکتے ہوئے چقماقی صفت رکھنے والے