تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 64

اپنے اپنے شعر پڑھے۔پھر لبید کی باری آئی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ اَ لَا کُلُّ شَیْءٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ یعنی سُنو! کہ ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے سوا فنا ہونے والی ہے ابھی انہوں نے یہ مصرع پڑھا ہی تھا کہ حضرت عثمان بن مظعونؓ بول اُٹھے کہ خوب کہا ٹھیک کہا۔اس پر لبید کو غصہ آیا کہ کیا میں اتنا ہی حقیر ہوں کہ اس چھوٹے سے بچے کی تصدیق کا محتاج ہوں۔اور اس نے اہل مجلس کو غیرت دلائی کہ یہ کیا بدتہذیبی ہے جو تم لوگوں نے اختیار کر لی ہے کہ ایک بچہ مجھے داد دیتا ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کو ڈانٹا اور کہا کہ خبردار آئندہ ایسا نہ کرنا۔اس کے بعد انہوں نے دوسرا مصرع پڑھا ع وَکُلُّ نَعِیْمٍ لَا مَحَا لَۃَ زَائِلٗ یعنی ہر نعمت ایک دن زائل ہونے والی ہے۔اس پر حضرت عثمان بن مظعون پھر بول اُٹھے اور کہنے لگے۔یہ درست نہیں جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہوںگی۔لبید کو سخت غصہ آیا اور اس نے پھر لوگوں کو غیرت دلائی کہ تم نے میری بے عزتی کی ہے۔اب میں کوئی شعر نہیں پڑھوں گا۔اس پر ایک شخص کو اتنا جوش آیا کہ اس نے اُٹھ کر حضر ت عثمان بن مظعونؓ کے منہ پر ایک مکا مارا جس کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ نکل گئی۔ان کے وہ ہمدرد رئیس جنہوں نے ان کو پناہ دے رکھی تھی وہ بھی وہیں پاس بیٹھے تھے۔چونکہ وہ اتنی طاقت نہیں رکھتے تھے کہ دوسروں کے مقابلہ میں کھڑے ہو سکیں اس لئے انہوں نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کو ہی ڈانٹنا شروع کر دیا۔اور جس طرح کسی غریب عورت کے بچے کو کوئی امیر آدمی کا بچہ مار جائے تو وہ اپنے بچے کو ہی ڈانٹتی ہے اور کہتی ہے کہ تو گھر سے کیوں باہر نکلا تھا۔اسی طرح انہوں نے بھی حضرت عثمان بن مظعونؓ کو ڈانٹنا شروع کیا کہ تجھے میں نے نہیں کہا تھا کہ میری پناہ سے نہ نکلو۔اب دیکھا اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ اس پر حضرت عثمان بن مظعونؓ نے جواب میں کہا چچا! آپ کو تو میری ایک آنکھ کے نکلنے کا افسوس ہے اور میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کے راستے میں نکلنے کے لئے تیار ہے(اسد الغابۃ ذکر عثمان بن مظعون)۔تو حقیقی مومن قربانی سے گھبراتا نہیں بلکہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا اس کی کوئی قیمتی متاع ضائع ہو جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ مرنے والا اور باقی رہنے والے سب اس کے ہی ہیں۔پس اگر وہ اللہ کی چیز تھی اورہم بھی اسی کے ہیں تو اللہ تعالیٰ اگر اپنے ایک غلام کے پاس رکھوائی ہوئی امانت واپس لے گیا تو اسے شکوہ کا کیا حق ہے۔میں تو سب کچھ اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔(۵) مگر یہ پہلا حصہ کچھ استغناء ظاہر کرتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرما کر دوسرا حصہ اس