تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 63
کڑوی تھی لیکن بڑے مزے لے لے کر کھانی شروع کر دی۔مالک نے ایک اور قاش کاٹ کر دے دی۔حضرت لقمان نے پھر مزے لے لے کر کھائی۔حتّٰی کہ تاجر نے یہ سمجھ کر کہ یہ بڑا میٹھا خربوزہ ہے ایک قاش خود بھی چکھی تو اسے معلوم ہوا کہ نہایت کڑوا خربوزہ ہے۔اس پر وہ حضرت لقمان کو خفا ہوا کہ تم نے بتایا کیوںنہیں۔اگر تم بتا تے تو میں تمہیں اور کڑوی قاشیں تو نہ کھلاتا۔حضرت لقمان نے کہا کہ جس ہاتھ سے اتنی میٹھی قاشیں مَیں نے کھائی ہوئی تھیں کیا میں اتنا ہی بے شرم تھا کہ اس کی ایک دو قاشوں کو کڑوی سمجھ کر ردّ کر دیتا۔تواِنَّالِلّٰہِ کا بھی یہی مفہوم ہےکہ وہ خدا جس نے ہمیں اتنی بڑی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں اگر اس نے کسی حکمت کے ماتحت ایک نعمت واپس لے لی ہے یا ہزاروں خوشیوں کے ہوتے ہوئے ایک مصیبت ہم پر آگئی ہے تو کیا ہوا سب کچھ تو اسی کا دیا ہوا ہے۔اگر وہ اپنی مرضی سے ایک چیز واپس لے لیتا ہے تو اس پر جزع فزع کرنے سے زیادہ اور کیا حماقت ہو سکتی ہے؟ (۴) چوتھے معنے جو اس سے زیادہ اعلیٰ اور مومن کے مقام کے مطابق ہیں وہ یہ ہیں کہ نہ صرف سب کی سب نعمتیں اُسی کی ہیں اور وہی اس کا حقیقی مالک ہے اگر ایک نعمت اس نے واپس لے لی تو کیا ہوا؟ بلکہ ہمارے پاس جو کچھ باقی ہے اگر وہ بھی ہم سے لے لینا چاہے تو ہم باقی چیزیں بھی اس کی راہ میں دینے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ صحابہؓ کرام میں اس کی بہت سے مثالیں ملتی ہیں۔حضر ت عثمان بن مظعونؓ ایک بڑے مخلص صحابی تھے اور مکی زندگی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے اتنی محبت تھی کہ ان کی وفات کے بعد جب آپؐ کے بیٹے حضرت ابراہیم ؓ فوت ہوئے تو آپؐ نے انہیں فرمایا کہ جا اپنے بھائی عثمان بن مظعونؓ کے پاس (الاستیعاب باب حرف العین)۔گویا ان کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا قرار دیا۔وہ کسی رئیس کے بیٹے تھے۔ان کے والد فوت ہو گئے تو ان کے باپ کے کسی دوست نے ان کو اپنی پناہ میں لے لیا اور اعلان کر دیا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے کوئی شخص اسے تکلیف نہ دے۔چند دن تو وہ آزادانہ طور پر پھرتے رہے اور انہیں کسی نے کوئی تکلیف نہ دی لیکن ایک دن انہوں نے دیکھا کہ بعض کمزور مسلمانوں اور غلاموں کو کفار سخت تکلیف دے رہے ہیں اور انہیں تپتی ریت پر لٹا کر دکھ دے رہے ہیں ان سے یہ نظارہ برداشت نہ ہو سکا اور فوراً گھر آکر اُس رئیس سے کہا کہ چچا مہربانی کر کے اپنی پناہ واپس لے لو۔میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ دوسرے مسلمانوں کو تو لوگ سخت سے سخت سزائیں دیں اور میں مزے سے اِدھراُدھر پھروں۔چنانچہ اُس رئیس نے اپنی پناہ کا اعلان منسوخ کر دیا۔اسی اثناء میں لبید جو ایک بہت بڑا شاعر تھا(اور جو بعد میںمسلمان بھی ہو گیا) وہ مکہ میں آیا اور لوگوں نے اس کے اعزاز میں ایک مجلس مشاعرہ قائم کی۔حضرت عثمان بن مظعونؓ اور وہ ریئس بھی وہیں تھے۔اکثر شعراء نے