تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 62
ہو رہا ہے تو آپ کو اتنی گھبراہٹ ہوئی کہ آپ کھڑے بھی نہ رہ سکے۔زمین پر بیٹھ گئے اور فرمایا حضور جلدی مشک لائیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس فقرہ سے سمجھ گئے کہ بچے کی حالت اچھی نہیں اور ویسے ہی بغیر مشک لئے واپس آگئے۔اور فرمایا کیا بچہ فوت ہو گیا ہے؟ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ہاں حضور فوت ہو گیا ہے۔آپ نے فوراً اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ پڑھا۔اور بجائے کسی گھبراہٹ کا اظہار کرنے کے باہر کے احمدیوں کو خط لکھنے شروع کر دیئے کہ مومنوں پر ابتلاء آیا ہی کرتے ہیں۔ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔بلکہ اپنے ایمان کو پختہ رکھنا چاہیے اور پھر لکھاکہ مبارک احمد کی وفات کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے مجھے خبر دے دی تھی کہ یہ چھوٹی عمر میں ہی اُٹھا لیا جائے گا۔پس اس کے فوت ہونے سے خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔پھر آپ نے اس کے کتبہ کے لئے جو اشعار لکھے۔اُن میں سے ایک یہ بھی مصرع ہے کہ ع بُلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فد اکر یہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ کا ہی ایک رنگ میں مفہوم رکھتاہے۔غرض مومن کو جب کوئی نقصان پہنچتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرا تو خدا سے تعلق ہے اگر میرے کسی عزیز کو خدا تعالیٰ نے اپنے پاس بُلا لینا مناسب سمجھا ہے تو مجھے اس پر کیا شکوہ ہو سکتا ہے؟ اُسی کی چیز تھی اور وہی بلانے کا حق دار تھا پس۔اِنَّا لِلّٰہِکے ایک تو یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تباہ نہیں کرےگا اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ ہمارا تعلق صرف خدا کی وجہ سے ہے پس جس بات میں ہمارا خدا راضی ہے اس میں ہم بھی راضی ہیں۔(۳) تیسری بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے اَنَا لِلّٰہِ نہیں فرمایا بلکہ اِنَّا لِلّٰہِ فرمایا ہے تاکہ یہ اقرار صرف انفرادی رنگ میں نہ ہو بلکہ ہرانسان علیٰ وجہ البصیرت اس یقین پر قائم ہو کہ دنیا کی ہرچیز خدا تعالیٰ کی ہے اور ہمارا ان سے محض عارضی تعلق ہے۔پس نہ صرف مجھے بلکہ دنیا کے کسی انسان کوبھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے کسی فعل پر اعتراض کرے یا اس کی کسی تلخ قاش پر اپنا مونہہ بنانا شروع کر دے۔مثنوی رومی ؒ میں حضرت لقمانؓ کے متعلق جن کو بعض لوگ نبی بھی سمجھتے ہیں ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ انہیں کسی نے ان کے والدین کی وفات کی وجہ سے غلام بنا لیا اور ایک تاجر کے پاس بیچ دیا۔اس تاجر نے انہیں ذہین اور ہوشیار سمجھ کر ان سے غلاموں والا سلوک ترک کر دیا اور اُن سے محبت کرنے لگا۔ایک دن کسی نے اس کو تحفۃً ایک خربوزہ پیش کیا جو بظاہر بہت اچھا تھا۔اس نے ایک قاش کاٹ کر حضرت لقمان کو دی۔انہوں نے چکھی تو نہایت