تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 55

لگ جاتے ہیں۔اور وہ ان لوگوں کو بیو قوف سمجھتے ہیں جو اپنے آپ کو قربانیوں کی آگ میں جھونکنے کے لئے آگے نکل آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو نصیحت کرتا ہے کہ تم اپنے شعور سے کام لو اور شہدا ء کو مردہ کہہ کر ان کی بے حرمتی مت کرو۔وہ مردہ نہیں بلکہ حقیقتاً وہی زندہ ہیں۔کیونکہ تاریخ ان کے نام کو زندہ رکھے گی اور آئندہ آنے والی نسلیں انہی کے نقشِ قدم پر چلیں گی اور ان کے کارناموں کو یاد رکھیں گی اورہمیشہ ان کی بلندی درجات اور مغفرت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دُعائیں کرتی رہیں گی۔تم اُسے زندہ سمجھتے ہو جو جسد عنصری کے ساتھ زندہ ہو حالانکہ زندہ وہ ہے جس نے مرکر اپنی قوم کو زندہ کر دیا۔اگر تمہیں شہداء بھی ُمردہ نظر آتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارا شعور ناقص ہے تم اس کی اصلاح کرو اور زندگی اور موت کے سلسلہ کو سمجھنے کی کوشش کرو۔وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ اور ہم تمہیں کسی قدر خوف اور بھوک(سے) اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعہ(سے) ضرور آزمائیں الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَۙ۰۰۱۵۶ گے اور (اے رسول!) تو (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔حلّ لُغات۔وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بَلَاءٌ کسی کے خیر اور شر کے ظاہر کرنے کو کہتے ہیں اور یہ ظاہر کرنا تین اغراض کے لئے ہوتا ہے۔اول اپنا علم بڑھانے کے لئے جیسے اُستاد اپنے شاگرد کا اس غرض کے لئے امتحان لیتا ہے کہ اُسے معلوم ہو کہ طالب علم نے اپنا سبق یاد کیا ہے یا نہیں۔دوم اس لئے کہ جس کو ابتلاء میں ڈالا گیا ہے اس کو معلوم ہو جائے کہ اس کی کیسی حالت ہے کیونکہ عام لوگ خود بھی نہیں جانتے کہ فلاں بات ہم میں ہے یا نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ منافقوں کے متعلق فرماتا ہے۔وَمَایَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ (البقرۃ:۱۰) یعنی منافق فسادی ہیں مگر وہ اس امر کو سمجھتے نہیں کہ ہم فساد کر رہے ہیں۔سوم۔اس لئے کہ دوسروں کو معلوم ہو جائے کہ اس شخص کی ایمانی حالت کیسی ہے؟ یہ مثال اعلیٰ درجہ کے لوگوں کی ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑسے سوال کیا تو اس کی غرض یہ تھی کہ فرشتوں کو معلوم ہو کہ آدم ؑ میں کیا کیا طاقتیں ہیں؟ خدا تعالیٰ چونکہ علیم و خبیر ہے اس لئے جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوتا ہے تو پچھلے دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔نہ کہ پہلے میں۔اگر ابتلاء نہ آئے تو انسان ایمان میں ترقی نہ کر سکے۔اور اسے معلوم ہی نہ ہو کہ اس کے ایمان کی کیا حالت ہے؟