تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 56

بَلَوْتُ الرَّجُلَ (بَلَاءً وَ بَلْوًا)وَابْتَلَیْتُہٗ کے معنے ہیں اِخْتَبَرْتُہٗ میں نے اس کا امتحان لیا اور اِبْتَلَاہُ اللہُ کے معنے ہیں اِمْتَحَنَہٗ اﷲ نے اس کا امتحان لیا۔اور اس سے اِسْم اَلْبَلْوٰی۔اَلْبَلْوَۃُ اَلْبَلِیَّۃُ اور اَلْبَلَاءُ آتا ہے یعنی امتحان۔نیز لکھا ہے اَلْبَلَاءُ یَکُوْنُ فِی الْخَیْرِ وَ الشَّرِّ کہ بلاء کے اندر دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔بلائے خیر بھی اور بلائے شر بھی۔چنانچہ کہتے ہیں اِبْتَلَیْتُہٗ بَـلَاءً حَسَنًا وَّ بَلَاءً سَیِّئًا کہ میں نے اس کا اچھا امتحان لیا اور بُرا امتحان لیا۔پھر لکھا ہے وَ اللہُ تَعَالٰی یَبْلِی الْعَبْدَ بَلَاءً حَسَنًا وَیَبْلِیْہِ بَلَاءً سَیِّئًا کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کا امتحان ہر دو طرح سے لیتا ہے بلائِ انعام سے بھی اور بلائِ تکلیف سے بھی۔نیز اَلْبَـلَائُ کے معنے انعام کے بھی لکھے ہیں (لسان) اَلْبَلَاءُ کے اصل معنے امتحان کے ہوتے ہیں۔لیکن امتحان چونکہ کبھی انعام کے ذریعہ سے اور کبھی سزا کے ذریعہ سے لیا جاتا ہے اس لئے بَلَاء کے اندر دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔انعام کا امتحان بھی اور تکلیف کا امتحان بھی۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَبَلَوْنَاھُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ (الاعراف :۱۶۹) ثَمَرَات اس کے معنے پھلوں کے بھی ہوتے ہیں اور کوششوں کے نتائج کے بھی۔(اقرب) وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ بشارت ایسی خبر کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے چہرہ پر اثر پڑے۔خواہ وہ خوشی کی خبر ہو یا غم کی۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ قسم کے ابتلائوں کا ذکر فرمایا ہے اور کہا ہے کہ ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم ان ابتلائوں میں سے گذرے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ایک ابتلاء تو یہ ہو گا کہ دشمنوں کے حملوں کا خوف تمہیں لاحق ہو گا۔ساری قومیں تمہارے خلاف کھڑی ہو جائیں گی۔اور تم پر حملہ کریں گی۔حکومتیں تم سے ناراض ہو جائیں گی۔اور تمہیں مٹانے کی کوشش کریں گی۔یہ چیزیں ایسی ہیں جن سے بزدل لوگ ڈر جاتے ہیں اور کہتے ہیں خدا جانے اب کیا ہو گا ؟اور بہت سے لوگوں کے حوصلے اس خوف کی وجہ سے پست ہو جاتے ہیں ان کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ پبلک اور حکومت نے ہمارے خلاف جتھہ بنا لیا ہے یا پنچائت نے ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا ہے۔پھر اس سے ترقی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھوک کے ذریعے مومنوں کے ثباتِ قدم کا امتحان لیتا ہے۔بھوک کی تکلیف سے یہ مراد ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے مامور کی آواز پر ایک گروہ جمع ہو جاتا ہے تو لوگ ان کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ملازمتوں سے برخواست کر دیتے ہیں۔دوکانوں سے سودا نہیں دیتے۔پیشہ وروں سے کام لینا بند کر دیتے ہیں گویا پہلے تو صرف دھمکیاں دیتے ہیں جن کی وجہ سے خوف لاحق ہوتا ہے کہ وہ کہیں نقصان نہ پہنچادیںمگر دوسرے قدم پر