تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 540

آخرمیں یہ تعلیم دی کہ تم خدا تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرتے رہو کہفَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ یعنی اے خدا ! ہمیں کافروں کی قوم پرغلبہ عطا فرما۔ہم بے بس اور کمزور ہیں لیکن ہمارا دشمن طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ ہے۔ہمارا غلبہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ تو ہمارے ساتھ ہو اور اپنے رحم اور کرم سے کام لےکر ہمارے ایک ایک آدمی کے اندر ایسی روح پھونک دے کہ وہ سوسو بلکہ ہزار ہزار مخالف پر بھی بھاری ہو اگر تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرماوے تو ہم بچ سکتے ہیں ورنہ ہمارے بچائو کی اور کوئی صورت نہیں۔پس اے ہمارے رب! جو لوگ ایسے کام کر رہے ہیں جن سے اسلام کی ترقی میں روک واقع ہوتی ہے ان پر تو ہمیں غالب کر اور ایسے سامان پیدا فرما جو تیری تبلیغ اور تیرے نام کو دنیا میں پھیلانے کا باعث ہوں۔پھر یہ دُعا صرف مادی غلبہ کے لئے ہی نہیں بلکہ روحانی رنگ میں بھی دشمنوں پر غالب آنے کے لئے ایک عاجزانہ پکار ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کے حضور یہ عرض داشت پیش کی گئی ہے کہ اے ہمارے رب! اگر ہمارے اندر تیرے اس پاک رسول پر ایمان لانے کے نتیجہ میں کوئی تغیر پیدا نہ ہوا اور کفار میں اور ہم میں ایک نمایاں روحانی امتیاز اور فرق لوگوں کو محسوس نہ ہوا۔ہمارے اخلاق اور کردار ان سے بلند نہ ہوئے اور ہمارے معاملات ان سے بہتر نہ ہوئے تو دنیا ہمیں طعنہ دے گی کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر کیا فائدہ اٹھایا؟ ان میں تو کوئی بھی تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔پس اے خدا! تو اپنے فضل سے ہمیں اپنے اندر ایسا نیک تغیر پیدا کرنے کی توفیق عطا فرما کہ ہم تیرے رحم اور کرم کو جذب کر لیں اور کفار پر ہمیں جسمانی رنگ میں ہی نہیں بلکہ اخلاق اور روحانیت کے لحاظ سے بھی ایک نمایاں تفوق اور غلبہ حاصل ہو جائے اور تیرا دین دنیا کے کناروں تک پھیل جائے۔تـــــــــــــــــــــمّــــــــــــــــــت وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ