تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 539
پھر فرمایا وَاعْفُ عَنَّا۔اے خدا ہم سے عفو کر۔یہ نَسِيْنَآکے مقابلہ میں ہے۔یعنی جو کام ہمیں کرنے چاہیے تھے چونکہ ہم نے نہیں کئے اس لئے ہمیں تو معاف فرمادے۔وَاغْفِرْلَنَا اور جو غلط کام ہم کر چکے ہیں ان کے خمیازہ سے ہمیں بچا لے اور ان کاموں کو نہ کئے کی طرح کر دے۔عفو کے معنے رحم کے بھی ہوتے ہیں اور جو چیز کسی انسان سے رہ جائے اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مہیّا کر دی جائے۔اس لئے وَاعْفُ عَنَّا کے یہ بھی معنے ہیں کہ جو چیز رہ گئی ہے اس کو تو اپنے فضل اور رحم سے ہمیں مہیّا فرمادے۔اس کے مقابلہ میں جو کام غلط ہو جائے اس کی درستی اسی طرح ہو سکتی ہے کہ اس کو مٹا دیا جائے۔چنانچہ اَخْطَاْنَا کے مقابلہ میں اغْفِرْ لَنَا رکھ دیا۔اور غَفَرَ کے معنے عربی زبان میں مٹا دینے کے ہی ہوتے ہیں (مفردات)۔پس اس کے معنے یہ ہیں کہ اے خدا جو کام ہم غلط طور پر کر چکے ہیں ان کو مٹادے اور انہیں نہ کئے کی طرح کردے۔گویا ایک طرف تو یہ کہہ دیا کہ جو کام ہم نے نہیں کیا اور اس طرح رخنہ واقع ہو گیا ہے اس رخنہ کو تو اپنے فضل سے پُر کر دے اور دوسری طرف یہ کہہ دیا کہ جو کام ہم غلط طور پر کر چکے ہیں ان کو تو مٹا ڈال۔وَارْحَمْنَا پھر اس کام کے نتیجہ میں ہم سے جو اور غلطیاں ہوئی ہیں اور جن ترقیات کے حصول میں روک واقع ہو گئی ہے ان غلطیوں کے متعلق بھی ہم پر رحم فرما۔اور ہماری ترقیات کے راستہ میں جو روکیں حائل ہو گئی ہیں ان کو اپنے فضل سے دُور کر دے۔اَنْتَ مَوْلٰىنَا تو ہمارا مولیٰ ہمارا آقا اور ہمارا مالک ہے۔آخر ہماری کمزوریاں کسی نہ کسی رنگ میں لوگوں نے تیری طرف ہی منسوب کرنی ہیں۔لوگوں نے یہی کہنا ہے کہ یہ خدائی جماعت کہلاتی تھی مگر اسے بھی دکھ پہنچا اور اسے بھی دوسروں کی طرح تکلیف ہوئی۔پس اے ہمارے مولیٰ! تو ہمارا آقا ہے اور ہم تیرے خادم۔تو آقا ہونے کے لحاظ سے ہم پر رحم کر کیونکہ ہماری کمزوریاں آخر تیری طرف ہی منسوب ہوں گی اور لوگ ہدایت سے محروم ہو جائیں گے۔احادیث میں آتا ہے کہ غزوۂ اُحد میں جب ابوسفیانؔ نے بڑے زور سے کہا کہ لَنَا عُزّٰی وَلَاعُزّٰی لَکُمْ یعنی ہماری تائید میں ہمارا عزّٰی بُت ہے۔مگر تمہاری تائید میں کوئی بت نہیں۔تو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم کہو۔لَنَا مَوْلٰی وَلَامَوْلٰی لَکُمْ۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة اُحد) ہمارا والی اور ہمارا مددگار ہمارا حیّ و قیوم خدا ہے مگر تمہارا کوئی والی اور مددگار نہیں۔یہ اَنْتَ مَوْلٰىنَا کی سچائی کا کیسا عملی ثبوت تھا کہ تلواروں کے سایہ میں بھی انہوں نے یہی کہا کہ اللہ ہمیں بچا سکتا ہے۔