تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 538
بھی انسان کے لئے ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو۔جب کسی کو دوسرے سے محبت ہوتی ہے تو اس کی معمولی سی ناراضگی کو دیکھ کر ہی اس کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ کہتا ہے۔اس نے اپنی آنکھیں میری طرف نہیں پھیریں۔بعض دفعہ کہتا ہے اس نے مجھ سے اچھی طرح باتیں نہیں کیں۔بعض دفعہ کہتا ہے اس نے مجھ سے باتیں تو کیں مگر ان میں بشاشت معلوم نہیں ہوتی تھی اور اس بات کا اس کی طبیعت پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ غمگین ہو جاتا ہے۔پس اس سے یہ مراد نہیں کہ ہمیں بڑی سزا نہ دیجیئو چھوٹی سزا دیجیئو بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں کوئی سزا دیجیئو ہی نہیں نہ چھوٹی نہ بڑی۔پھر دنیا میں بعض مصائب ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر قصور کے آجاتے ہیں۔قصور ہمسایہ کا ہوتا ہے اور دکھ اسے پہنچ جاتا ہے قصور دوست کا ہوتا ہے اور سزا کا اثر اس پر آپڑتا ہے اس لئے جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ دعا سکھلائی کہ تم یہ کہا کرو کہ ہم سے ایسی خطا یا نسیان نہ ہو جائے جس کی وجہ سے ہم تیری سزا کے مستحق ہو جائیں۔وہاں دوسری دعا یہ سکھلائی کہ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ۔اے خدا! ایسا نہ ہو کہ قصور تو ہمارے ہمسایہ کا ہو اور سزا ہمیں مل جائے۔یا قصور دنیا کا ہو اور اس کی مصیبت کا اثر ہم پر آپڑے مگر یہاں ایک شرط بڑھا دی اور وہ یہ ہے کہ مَالَاطَاقَۃَ لَنَا بِہٖ اس شرط کو اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ یہاں ناراضگی کا سوال نہیں بلکہ دنیوی مصائب اور ابتلائوں کا ذکر ہے ناراضگی بے شک چھوٹی بھی برداشت نہیں ہو سکتی مگر چھوٹی تکلیف برداشت کر لی جاتی ہے۔پس جہاں روحانی سزا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ذکر تھا وہاں تو یہ دعا سکھلائی کہ ہم میں تیری کسی ناراضگی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں وہ ناراضگی چھوٹی ہو یا بڑی مگر جب دنیوی تکالیف کا ذکر آیا تو یہ دعا سکھلائی کہ چھوٹے موٹے ابتلائوں پر مجھے اعتراض نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ میرا قدم ہمیشہ پھولوں کی سیج پر رہے۔البتہ وہ ابتلا ء جو تیری ناراضگی کا موجب نہیں اور جو دنیا میں عام طور پر آیا ہی کرتے ہیں۔ان کے متعلق میری صرف اتنی درخواست ہے کہ کوئی ابتلاء ایسا نہ ہو جو میری طاقت سے بالا ہو۔یہ مطلب نہیں کہ مومن ایسے ابتلاء خودچاہتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے چونکہ بتایا ہوا ہے کہ میں مومنوں کا امتحان لیا کرتا ہوں اس لئے مومن یہ نہیں کہتا کہ خدایا میرا امتحان نہ لے بلکہ وہ کہتا ہے خدایا امتحان تو لیجیئو مگر ایسا نہ لیجیئو کہ میری طاقت سے بڑھ کر ہو۔غرض جو حصہ ناراضگی کا تھا وہاں تو کہہ دیا کہ میں ذراسی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔مگر جہاں دنیوی تکالیف اور ابتلائوں کا ذکر تھا وہاں کہہ دیا کہ خدایا! تکالیف تو آئیں مگر ایسی نہ ہوں جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہوں۔