تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 537

طرح گناہ نہ ڈال جس طرح تو نے پہلی قوموں پر ڈالا۔یعنی ہمیں ان اعمال سے اپنے فضل سے محفوظ رکھ جن کے نتیجہ میں ہماری طرف گناہ منسوب ہوں۔اور دنیا میں ہمیں ظالم اور روسیاہ قرار دیا جائے اور طرح طرح کے عیوب ہماری طرف منسوب کئے جائیں جیسا کہ پہلی قوموں کے ساتھ ہوا۔اِصْـرٌ کے دوسرے معنے عھدٌ کے ہیں اس لحاظ سے لَاتَحْمِلْ عَلَیْنَا اِصْرًا کے معنے یہ ہیں کہ الٰہی! ہم سے کوئی ایسا عہد نہ لیجیئو جس کو توڑ کر ہم تیری سزا کے مستوجب ہوں جس طرح پہلی قومیں سزا کی مستوجب ہوئیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عہد لینا بُری چیز تھی تو پھر دوسری امتوں سے کیوں لئے گئےاور اگر اچھی چیز ہے تو اس امت سے کیوں نہ لیا جائے؟ بلکہ اس کے کامل اُمت ہونے کی وجہ سے تو ضروری ہے کہ اس کے ہر فرد سے عہد لیا جائے۔سویاد رکھنا چاہیے کہ لَاتَحْمِلْ عَلَیْنَا اِصْرًا کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم سے کوئی عہد ہی نہ لیا جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے ربّ! آپ ہم سے جو عہد لیں اس کے متعلق ہمیں توفیق بھی عطا فرمائیں کہ ہم اس کے مطابق عمل کریں اور پہلی قوموں کی طرح عہد شکن اور غدار قرار نہ پائیں۔گویا یہ دعا عہد سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ عہد کی ذمہ داریوں پر باحسن طریق عمل پیرا ہونے کے لئے ہے۔(۳)اِصْرٌ کے ایک معنے بوجھ کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے اس کے معنے یہ ہیں کہ اے ہمارے ربّ! تو ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر بوجھ ڈالا۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ہمیں اتنی نمازیں پڑھنے کو نہ بتا کہ جو ہم پڑھ نہ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ پہلے ہی فرماچکا ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم آتے ہیں وہ انسان کی طاقت اور اس کی توفیق کے مطابق ہوتے ہیں۔پس اس کے یہ معنے نہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ بعض جرائم کی بنا پر پہلے لوگوں کے لئے جو سزائیں نازل کی گئی تھیں وہ سزائیں ہم پر نازل نہ ہوں اور ہم سے وہ غلطیاں سرزد نہ ہوں جو پہلے لوگوں سے سرزد ہوئیں اور جن کی وجہ سے وہ تباہ کر دیئے گئے۔انہوں نے تیری نافرمانیاں کیں اور تیرے احکام کے خلاف انہوں نے قدم اٹھایا جس کی وجہ سے ان پر ایسی حکومتیں مسلّط ہوئیں اور ایسے قوانین ان کے لئے مقرر کر دیئے گئے جو ان کے لئے ناقابلِ برداشت تھے۔تو ہمیں اپنے فضل سے ایسے مقام پر کھڑا کیجیئوکہ ہم سے ایسی خطائیں سرزد نہ ہوں اور ہمیں ایسی سزائیں نہ ملیں جو ہمارے نفس کی طاقت برداشت سے باہرہوں اس کے یہ معنے نہیں کہ نفس کی طاقتِ برداشت کے مطابق اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی سزا ملے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہر روحانی سزا انسان کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔یہ انسان کی رذالت ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایسی سزا کو برداشت کر لیتا ہے ورنہ اگر شرافتِ نفس ہو تو چھوٹی سے چھوٹی سزا