تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 530

قلب کی صفائی پر ہے اور اس کی اہمیت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اور جگہ بھی بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَ اِذَا فَسَدَ تْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَ لَا وَھِیَ الْقَلْبُ۔(بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرأ لِدینہ) یعنی انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔جب وہ تندرست ہوتا ہے تو سارا جسم تندرست ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔غور کے ساتھ سنو !کہ وہ گوشت کاٹکڑا دل ہے۔پس اسلام میں پاکیزگی اس کا نام نہیں کہ صرف زبان پر اچھی باتیں ہوں یا اعمال تو اچھے ہوں اور دل میں بُرائی ہو۔بلکہ اسلام میں اصل پاکیزگی دل کی سمجھی جاتی ہے جو انسان اپنے دل کے لحاظ سے پاکیزہ نہیں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہرگز پاک نہیں۔ایک شخص اگر قطعاً کوئی گناہ نہ کرے۔مگر اس کے دل میں گناہ اور بُرائی سے الفت ہو اور گناہ کے ذکر میں اسے لذّت محسوس ہو تو وہ نیک اور پاک نہیں کہلائے گا۔جب تک کہ اس کے دل میں بھی یہ بات نہ ہو کہ اسے گناہوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے اسی طرح کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ عادت کے ماتحت انہیں غصہ آجاتا ہے مگر گالی نہیں دیتے لیکن ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ فلاں انسان بڑا بدمعاش اور شریر ہے ایسے لوگوں کے متعلق ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ پاکیزہ ہیں بلکہ یہ کہیں گے کہ وہ اپنے گند کو چھپائے بیٹھے ہیں۔پس اسلام میں پاکیزگی دل کی ہے۔اعمال اور زبان تو آلات اور ذرائع ہیں جن سے پاکیزگی ظاہر ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ دل کی حالت بھی محاسبہ کے نیچے آتی ہے۔خواہ تم اپنے دل کی حالت کو چھپائو یا ظاہر کرو۔یہاں خدا تعالیٰ نے کیا عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے کہ زبان اور اعمال تو دلی حالت کا اظہار کرتے ہیں اصل چیزدل کی حالت ہے اور خدا تعالیٰ اس کا محاسبہ کرے گا۔پس فرماتا ہے کہ تم اپنی دلی حالت کو ظاہر کر ویا چھپائو یعنی تم گندے اعمال نہ کرو یا زبان سے ظاہرنہ کرو مگر تمہارے دل میں گند ہے تو ضرور پکڑے جائو گے۔یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ میں باء کے تین معنے ہو سکتے ہیں۔(۱) ایک معنے ذریعہ اور سبب کے ہو سکتے ہیں اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ تم سے حساب لے گا۔یعنی تمہارے اعمال کی بنیاد دل پر رکھی جائے گی۔صرف ظاہری اعمال کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ دل کی حالت کو بھی مدّنظر رکھا جائےگا۔اور تمہاری نیتوں کو بھی دیکھا جائےگا۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی علی رسول اللہ) یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔پس اعمال کے ساتھ دل کی نیت کو بھی مدّنظر رکھا جائے گا۔(۲) دوسرے معنے اس کے فِیْ کے ہو سکتے ہیں یعنی ’’اس کے بارے میں‘‘ جیسا کہ ایک دوسری آیت