تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 528
عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا (بنی اسرائیل: ۳۷) یعنی کان آنکھ اور دل سب کے متعلق انسان سے سوال کیا جائے گا یعنی کان آنکھ کے گناہوں کے علاوہ ان خیالات کا بھی جائزہ لیا جائے گا جو مستقل طور پر کسی انسان کے دل میں پیدا ہوتے رہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ١ۙ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النور:۲۰) یعنی وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بدی پھیل جائے۔ان کے لئے بڑا دردناک عذاب مقدر ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔اس آیت میں بھی ان لوگوں کا کوئی عمل بیان نہیں کیا گیا۔بلکہ ان کے دل کی حالت بیان کر کے سزا تجویز کی گئی ہے۔پس وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں قائم رکھے اور ان کے متعلق سوچتا اور غور کرتا رہے خواہ ان کو عمل میں نہ لا سکے قابل سزا ہیں مگر وہ ناپاک خیالات جو دل میں آئیں اور انسان بائیں طرف تھوک کر اور استغفار اور لاحول پڑھ کر ان کو دل سے نکال دے۔ان پر کوئی گرفت نہیں۔اسی طرح اوپر کے رکوع میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ۔(البقرة: ۲۸۴) یعنی تم سچی گواہی کو مت چھپائو اور یاد رکھو کہ جو شخص سچی گواہی کو چھپاتا ہے وہ یقیناً ایسا ہے جس کا دل گناہ گار ہے۔صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ اِذَا ھَمَّ عَبْدِیْ بِسَیِّئَۃٍ فَلَاتَکْتُبُوْھَا عَلَیْہِ فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوْھَا سَیِّئَۃً وَاِذَا ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا فَاکْتُبُوْھَا حَسَنَۃً فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوْا عَشْرًا (مسلم کتاب الاِیمان باب اذا ھمّ العبد بالحسنة۔۔۔۔۔) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ کو یہ حکم دے دیا ہے کہ جب میرا بندہ کسی بدی کا ارادہ کرے تو اسے مت لکھو ہاں اگر اس ارادہ کے مطابق عمل بھی کر لے تو ایک بدی اس کے نامہء اعمال میں درج کردو۔لیکن اگر وہ کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو اس کی ایک نیکی لکھو۔اور اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو پھر دس نیکیاں لکھو۔ان آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خیالات تین قسم کے ہیں۔اول۔ایک وسوسہ یا خیال اٹھا اور خود بخود چلا گیا۔اس کا تو نہ ثواب ہے نہ عذاب۔دوم۔ایک بدعقیدہ دل میں پیدا ہوا یا ایک بدکام کی تحریک دل میںپیدا ہوئی اور اس نے اس کو رد کر دیا۔چونکہ بدی کا مقابلہ نیکی ہے اس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا۔سوم۔اگر اس نے اس کو باہر نہ نکالا اور اپنا مال سمجھ کر دل میں رکھ لیا۔تو اس کو ایک بدی کا گناہ ہو گا۔احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔تو صحابہؓ سخت گھبرائے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہم نماز اور روزہ اور جہاد اور صدقہ وغیرہ احکام پر تو