تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 527

اسلام میں پہلے گدھے کا گوشت کھانے کی اجازت تھی مگر بعد میں اس سے روک دیا گیا۔لیکن صحابہؓ کے دل کی حالت تو پہلے بھی ویسی ہی تھی جیسے بعد میں تھی۔یعنی جس طرح پہلے وہ اپنے دل کے خیالات پر کوئی قابو نہیں رکھتے تھے اسی طرح بعد میں بھی نہیں رکھتے تھے۔پس دل کے خیالات کے متعلق نسخ کے کوئی معنے ہی نہیں ہیں۔منسوخ تو وہ احکام ہوتے ہیں جو تبدیلیٔ حالات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور یہ امر تو تبدیلی پذیر ہے ہی نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے اس آیت کو سمجھا ہی نہیں۔انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ انسان کے دل میں جو خیال بھی آجائے اس کے حساب لینے کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے حالانکہ اس آیت میں ان امور کا ذکر ہے جن کو انسان اپنے نفس میں چھپا کر رکھتا ہے۔آنی خیالات تو بخشے جائیں گے۔لیکن ایک غلط عقیدہ، بغض، حسد اور بخل وغیرہ کے خیالات سب دل میں ہی ہوتے ہیں اگر ان کو بھی بخش دیا جائے تو پھر ایمان کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ پس اس جگہتُخْفُوْهُ سے مراد حسد، کینہ اور بغض وغیرہ ہے جو دل میں رکھا جاتا ہے۔اسی طرح اس سے ایسے خیالات مراد ہیں جن کو انسان اپنے دل میں قائم رکھتا ہے اور جن کو عمل میں لانے کی نیت کر لیتا ہے۔لیکن اگر ایک خیال آئے اور انسان اسے اپنے دل سے فوراً نکال دے تو یہ کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک نیکی ہے جس میں اس نے حصہ لیا۔پس محض دل کے خیالات قابل مؤاخذہ نہیں جب تک کہ ان پر عمل نہ کیا جائے یا ان کو پختگی سے قائم نہ کر لیا جائے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے صحیحین میں مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ اُمَّتِیْ مَاحَدَّثَتْ بِہٖ اَنْفُسُھَا مَالَمْ تَتَکَلَّمْ اَوْ تَعْجَلْ بِہٖ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان خیالات سے درگذر فرما دیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔بشرطیکہ وہ ان کو زبان پر نہ لائیں اور نہ ان پر جلدی سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔پس اس آیت میں ان خیالات کا ذکر کیا گیا ہے جن کو انسان اپنے دل میں چھپا کررکھتا ہے اور جن کے متعلق سکیمیں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔وقتی اور آنی خیالات کا اس میں کوئی ذکر نہیں اور نہ ان پر کوئی گرفت ہے۔ہاں غلط عقائد اور بغض اور حسد اور کینہ وغیرہ بھی اگر بغیر توبہ کے بخش دیئے جائیں تو پھر ایمان کی کوئی حقیقت ہی نہیں رہتی اس لئے ان پر مؤاخذہ کیا جائے گا۔کیونکہ یہی تمام گناہوں کی جڑھ ہیں۔اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْۤ اَيْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ (البقرۃ: ۲۲۶) یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں سے لغو قسموں پر تم سے کوئی مؤاخذہ نہیں کرے گا ہاں جو گناہ تمہارے دلوں نے بالارادہ کمایا ہے اس پر تم سے مؤاخذہ کرے گا۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ