تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 526
ہو گیا تو تم میں نورِ ایمان کہاں باقی رہے گا؟ اس آیت میں صرف گواہوں کی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ وہ تمام افراد جو کسی معاملہ میں شریک ہوں ان سب کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تم میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو جھوٹ بولنا یا جھوٹی گواہی دینا تو الگ رہا سچی گواہی کو بھی چھپانے کی کوشش کرے ورنہ تم دنیوی فائدہ تو ممکن ہے حاصل کرلو لیکن تم سے نیکیوں کی توفیق چھین لی جائےگی اور تمہارا دل سیاہ ہو جائے گا۔غرض تمدنی مشکلات کے حل کے لئے اسلام نے ان آیات میں نہایت جامع ہدایات دی ہیں۔اگر مسلمان ان احکام پر عمل کریں تو وہ کئی قسم کے جھگڑوں اور فسادات سے بچ سکتے ہیں۔لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْۤ اور جو کچھ (بھی )آسمانوں میں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَيَغْفِرُ لِمَنْ خواہ تم اسے ظاہر کرو یا اسے چھپائے رکھو اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔پھر جسے چاہے گا بخش دے گا۔يَّشَآءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۸۵ اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔اور اللہ ہر ایک چیز پر بڑا قادر ہے۔تفسیر۔وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُکے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا والی آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔یعنی پہلے تو یہ کہا گیا تھا کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اگر تم اسے ظاہرکرویعنی اس کے مطابق عمل کرو تب بھی اور اگر تم اس کو چھپائو یعنی صرف دل کے خیالات تک ہی محدود رکھو تمہارے جوارح اس کے مطابق کوئی عمل نہ کریں تب بھی اللہ تعالیٰ اس کے متعلق تم سے حساب لے گا۔لیکن پھر کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر ایسا بوجھ نہیں ڈالتا جو اس کی طاقت سے باہر ہو(کتاب الناسخ و المنسوخ للنحاس باب ذکر الآیۃ التی ھی تتمۃ ثلا ثین اٰیۃ)۔اور چونکہ دل کے خیالات کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے اس لئے وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ والی آیت منسوخ ہو گئی مگر ان کا یہ خیال درست نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نسخ حالات کے تغیر کے ساتھ تعلق رکھتاہے نہ کہ دل کے خیالات کے ساتھ۔مثلاً