تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 49

ہیں۔پس ہمارے باپ دادا مرے نہیں بلکہ وہ زندہ ہیں۔اگر اُن میں کچھ لوگ مرے ہوئے نظر آئیں تو ہمارے باپ دادا نہیں ہوں گے بلکہ تمہارے باپ دادا ہوں گے۔غرض جس مقتول کا بدلہ لے لیا جائے اہل عرب کے محاورہ کے مطابق وہ زندہ ہوتا ہے۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جو مسلمان شہید ہو گئے ہیں تم انہیں ُمردہ مت کہو وہ خدا تعالیٰ کے زندہ سپاہی ہیں۔اور خدا تعالیٰ ان کا ضرور بدلہ لے گا۔چنانچہ اگر ایک صحابیؓ مارا گیا تو اس کے مقابلہ پر مشرکوں کے پانچ پانچ آدمی مارے گئے۔اور ہر جنگ میں کفار مسلمانوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہلاک ہوئے سوائے جنگ ِ اُحد کے کہ اس میں بہت سے مسلمان مارے گئے تھے مگر اُن کا بدلہ بھی اللہ تعالیٰ نے دوسری جنگوں میں لے لیا۔دوسرے معنی محاورہ میں اس کے یہ ہوتے ہیں کہ جس شخص کا کام جاری رکھنے والے لوگ پیچھے باقی ہوں اس کی نسبت بھی کہتے ہیں۔مَامَاتَ کہ وہ مرا نہیں اور مردہ اسے کہتے ہیں جو مرے اور اس کا کوئی اچھا اور نیک قائم مقام نہ ہو۔چنانچہ عبدالملک بادشاہ نے زہری کے ایک مدرسہ کا معائنہ کیا تو اس مدرسہ کے طلباء میں اصمعی بھی تھے جو بہت بڑے مشہور نحوی گذرے ہیں۔بادشاہ نے اصمعی کا امتحان لیا اور اُس سے کوئی سوال پوچھا تو اصمعی نے اس کا نہایت معقول جواب دیا۔بادشاہ نے اس کا جواب سن کر خوش ہو کر زہری سے کہا کہ مَامَاتَ مَنْ خَلَفَ مِثْلَکَ کہ وہ شخص نہیں مرا جس نے ایسے لوگ پیچھے چھوڑے ہوں جیسا کہ تو نے چھوڑے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ یہ لوگ مردہ نہیں کہلا سکتے کیونکہ جس کام کے لئے انہوں نے جان دی ہے اس کے چلانے والے لوگ موجود ہیں اور ایک کے مرنے پر دو اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔پس ان کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے قائم مقام پیدا کر دیئے ہیں۔اور یہ لوگ اپنی تعداد میں پہلے سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔مردہ تو وہ ہوتا ہے جس کا بعد میں کوئی اچھا قائم مقام نہ ہو مگر ان کے تو بہت سے قائم مقام پیدا ہو گئے ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا کہ ہم ان میں سے ایک ایک کی جگہ کئی کئی قائم مقام پیدا کرتے چلے جائیں گے اور وہ قوم کبھی مرتی نہیں جس کے افراد اپنے شہداء کی جگہ لیتے چلے جائیں جو قوم اپنے قائم مقام پیدا کرتی چلی جاتی ہے وہ خواہ کتنی بھی چھوٹی ہو اسے کوئی مار نہیں سکتا۔پس فرماتا ہے کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مسلمان مارے گئے ہیں مسلمان مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔اگر ان میں سے ایک مرتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔اگر جنگ بدر میں کچھ مسلمان مارے گئے تو اُحد میں اس سے زیادہ کھڑے ہو گئے۔اُحد میں کچھ تکلیف پہنچی اور کچھ مسلمان مارے گئے تو غزوۂ خندق میں اس سے زیادہ کھڑے ہو گئے۔اور غزوۂ خندق کے مقابلہ میں فتح مکہ کے موقعہ پر زیادہ لوگ آئے اور اگر فتح مکہ