تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 523

صورت میں کسی تحریر کے بغیر بھی دوسرے کو روپیہ دے دینے میں کوئی حرج نہیں۔تاجروں کو ایسے معاملات روزانہ پیش آتے رہتے ہیں۔گو لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَکْتُبُوْھَاکے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت کے وقت لین دین کو نہ لکھنا گناہ تو نہیں لیکن اچھا یہ ہے کہ اس میں بھی رسید کاٹی جائے۔جیسا کہ انگریزی فرموں اور تاجروں میں یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی چیز ان سے خریدی جائے تو ساتھ ہی وہ رسید بھی لکھ دیتے ہیں۔اس سے کئی جھگڑے مٹ جاتے ہیں اور کمی بیشی یا چوری وغیرہ کا الزام عاید نہیں ہو سکتا۔بہرحال اس جگہ تجارتِ سلم اور تجارتِ نقد کا ذکر کیا گیا ہے۔تجارتِ سلم کی صورت میں مال اور مدت کی تعیین لازمی قرار دی گئی ہے اور اس کا لکھنا فرض کیا گیا ہے۔اسی طرح اس خرید کی صورت میں بھی کہ مال لے لیا جائے اور رقم کی ادائیگی کا آئندہ وعدہ ہو لیکن جب نقد سودا ہو کہ مال لے لیا اور قیمت دے دی تو لکھنا فرض نہیں رکھا گیا۔گو عبارت سے ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھی پسندیدہ یہی ہے کہ تحریر دی جائے۔ہاں جب تحریر نہ ہو تو گواہ مقرر کر لے۔جیسا کہ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَايَعْتُمْسے ظاہر ہے تاکہ بعد میں دوکاندار چوری وغیرہ کا الزام نہ لگا دے اور کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔وَلَایُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّلَاشَھِیْدٌ۔فرمایا گواہ اور کاتب کو خرچ دیئے بغیر عدالتوں میں بلانا ان کے لئے نقصان کا موجب ہے۔اس لئے ان کو خرچ دینا تمہارے لئے ضروری ہے۔یہ لین دین کے سلسلہ میں گیارھواں حکم دیا کہ معاہد ہ لکھنے والے اور گواہوں کو خرچ دو اور ان کو تکلیف میں نہ ڈالو۔اگر ایک کاتب جس کا کام یہ ہے کہ وہ اُجرت پر لکھتا ہے اسے مجبور کیا جائےکہ وہ بلا اجرت کوئی مضمون لکھ کر دے تو یہ اس پر ظلم ہو گا یا مثلاً کوئی شخص اگر کسی اور بڑی ذمہ واری کے کام پر جا رہا ہو تو ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہی لکھے۔یا بلاخرچ آکر گواہی دے اس پر ظلم ہے۔وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ فرماتا ہے اگر تم ان کو دق کروگے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تم ہمارے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہو۔اور اطاعت کا جُوآ اپنی گردن سے اُتارتے ہو بِکُمْکے معنے فِیْکُمْ کے ہیں۔یعنی یہ بات تمہارے اندر فسق اور خروج عَنِ الطَّاعَۃ کی رُوح پیدا کرنے والی ہو گی۔وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ يُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ فرماتا ہے۔یہ تمدنی احکام ہیں جن پر تمہارے معاشرہ کی ترقی کا انحصار ہے اس لئے ان کو ہمیشہ مدّنظر رکھو اور اس بات کو سمجھ لو کہ تم جتنا تقویٰ اختیار کرو گے اللہ تعالیٰ تمہارے کا روبار میں اتنی ہی برکت ڈالے گا اور تمہیں اپنے علم سے حصہ عطا فرمائے گا۔کیونکہ ترقی کی کوئی راہ اس سے پوشیدہ نہیں۔وہ ہرچیز کو خوب جانتا اور سمجھتا ہے۔