تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 506

وہ لوگ جو کہا کرتے ہیں کہ آج کل سُود کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔صحابہؓ کے زمانہ میں جبکہ دو دو کروڑ روپیہ ایک ایک شخص کے پاس ہوتا تھا (اسد الغابۃ ،عبد الرحمٰن بن عوف)کیا سُودی کاروبار ہوا کرتا تھا؟ سود کو تو وہ حرام سمجھتے تھے۔پس یہ غلط ہے کہ سُود کے بغیر مال میں ترقی نہیں ہو سکتی۔پھر اسلام نے اگر ایک طرف سُود سے منع کیا ہے تو دوسری طرف زکوٰۃ اور وراثت کے طریق کو جاری کیا ہے۔اس ذریعہ سے دولت کسی خاص خاندان میں جمع نہیں رہ سکتی بلکہ جو محنت کرے وہی مال دار ہو سکتا ہے اور غریبوں کے راستہ میں کوئی روک نہیں رہتی۔غرض سُود کی حرمت کا مسئلہ ایک نہایت ہی حکیمانہ مسئلہ ہے اور اسلام نے اسے ایسا ناپسند کیا ہے کہ جو شخص سُود لے اس کے اس فعل کو وہ خدا تعالیٰ سے جنگ کرنے کے مترادف ٹھہراتا ہے۔گویا اسے بغاوت کے جرم میں داخل کرتا ہےاور جس طرح باغی ملک پر بادشاہ چڑھائی کرتے ہیں اسی طرح سُود لینے والوں کے متعلق فرماتا ہے کہ اگر تم اس سے باز نہیں آئو گے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جائو کیونکہ تم نے اس کی بغاوت کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگر سُود حرام ہے تو پھر موجودہ زمانہ میں اسلام کی اس تعلیم پر کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے؟ سویاد رکھنا چاہیے کہ دین ایک نظام کا نام ہوتا ہے اور یہ نظام اسی صورت میں نیک نتیجہ پیدا کر سکتا ہے جب وہ اپنی مکمل صورت میں قائم ہو۔ادھوری صورت میں اس کی پوری شان ظاہر نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ آج کل جب لوگوں کو سود کے خلاف کچھ کہا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر تو گذارہ ہی نہیں ہو سکتا۔اس سے ان کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس زمانہ میں سوسائٹی اس قدر گندی ہو گئی ہے کہ انسان سود لینے پر مجبور ہو جاتا ہے بلکہ ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سود ہی مصیبت کے وقت کا علاج ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سود انسان کی مشکلات کا علاج نہیں بلکہ وہ ایک مرض ہے جسے انسان نے خود پیدا کیا ہے اور اسلام میں اس کا علاج موجود ہے۔لیکن وہ علاج ایک نظام کے ساتھ وابستہ ہے۔جب تک اس نظام کو قائم نہ کیا جائے اس سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا جس طرح ایک مکان کی چاردیواری اور چھت اور دروازے اور کھڑکیاں جب تک کامل نہ ہوں وہ مکان حفاظت کا موجب نہیں ہو سکتا۔اگر اسلام کی ساری تعلیم کو قائم کیا جائے تو سود کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور سود کی مضرتوں سے بھی دنیا نجات پا جاتی ہے۔سود کی ضرورت مندرجہ ذیل اسباب کی وجہ سے ہوتی ہے۔(۱) غریب انسان اپنے گذارہ کے لئے قرض لیتا ہے۔(۲) تاجر صنّاع یا زمیندار اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے قرض لیتا ہے۔