تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 505

قرار دیا ہے۔تاجر پیشہ لوگوں کے سُود کے متعلق تو جب کوئی شخص سوال کرے کہ مثلاً اس کے پا س دس ہزار روپیہ ہے اور وہ اس سے دس لاکھ کما سکتا ہے۔اگر وہ بینکوں یا دوسرے افراد سے روپیہ لے کر اسے ترقی نہ دے تو کیا کرے؟ ہم اسے آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ صبر کرے دس ہزار روپیہ اس کے لئے کافی ہے اسی پرگذارہ کرتا رہے۔مگر جس وقت یہ سوال پیش کیا جائے کہ ایک غریب آدمی بھوک سے مررہا ہے۔کھیتی اس کی نہیں ہوئی۔اناج اس کے گھر میں نہیں آیا۔بارشیں وقت پر نہیں ہوئیں۔ایسی صورت میں اگر وہ اپنی زمین کے لئے روپیہ مانگتا ہے تو بغیر سُود کے لوگ اسے نہیں دیتے۔اب وہ کیا کرے؟ اگر وہ بیل نہ خریدے گا تو کھیتی کا کام کس طرح کرے گا یا عمدہ بیج نہ لے گا تو وہ اور اس کے بیوی بچے کہاں سے کھائیں گے؟ اس کے لئے ایک ہی صورت ہے کہ وہ روپیہ قرض لے مگر جب لوگ اسے بغیر سُود کے قرض نہ دیں تو وہ کیا کرے؟ جب یہ سوال پیش کیا جاتا ہے تو اس کا جواب دینا ذرا مشکل ہو جاتا ہے اور درحقیقت یہی وہ سُود ہے جس کے حالات اور کوائف سننے کے بعد انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ وہ کیا جواب دے؟ مال دار آدمی کو تو ہم فوراً یہ جواب دے سکتے ہیں کہ سُود پر روپیہ مت دو۔اگر تمہارے پاس دس ہزار روپیہ ہے تو اسی پر کفایت کرو۔مگر ایک غریب آدمی کو ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اسی حالت پر کفایت کرو۔اس کو تو ایک ہی جواب دیا جا سکتا ہے کہ بھوکے رہو اور مرجائو مگر یہ کوئی ایسا معقول جواب نہیں۔جس سے ہمارے نفس کو تسلّی ہو۔یا سائل کے دل کو اطمینان حاصل ہو۔پس ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اسلام نے اس کا کیا حل رکھا ہے؟ اس نقطہ ٔ نگاہ سے اگر ہم اسلامی تعلیم پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک غریب آدمی تو ایسا ہوتا ہے جس کے پاس روپیہ نہیں ہوتا مگر جائیداد ہوتی ہے۔اس کے لئے تو یہ صورت ہے کہ وہ جائیداد رہن رکھے اور روپیہ لے لے مگر ایک ایسا غریب ہوتا ہے جس کے پاس جائیداد بھی نہیں ہوتی جسے وہ رہن رکھ سکے یا اگر جائیداد ہوتی ہے تو وہ اس قسم کی ہوتی ہے کہ اگر وہ اسے رہن رکھ دے تو اس کا کاروبار بند ہو جاتا ہے۔مثلاً زمیندار ہے اگر وہ اپنی زمین رہن رکھ دیتا ہے تو وہ کھیتی باڑی کہاں کرے گا؟ اپنے مکان کی چھت یا صحن میں تو وہ کر نہیں سکتا۔ان حالات میں اسلام نے یہ رکھا ہے کہ ایک طرف تو اس نے امراء پر ٹیکس لگا دیا جس سے غرباء کی امدا د کی جا سکتی ہے اور دوسری طرف اس نے یہ کہا ہے کہ جب ٹیکس سے بھی کسی غریب کی ضرورت پوری نہ ہو تو اس کے دوست واقف کار یا محلّہ والے اسے قرض حسنہ دیں۔اور فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ کے ماتحت کشائش تک اسے واپسی کی مہلت دیں تاکہ وہ اطمینان سے اپنی حالت درست کر سکے۔یہ صورت ایسی ہے جس پر اسے سُود پر روپیہ لینے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اس کی احتیاج پوری ہو جاتی ہے۔