تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 504

چار لڑکے اس کے لمبے کرتہ کے نیچے سے نکل آئے۔پوچھنے والے نے کہا کہ تم تو کہتے تھے کہ میرا کوئی بچہ نہیں۔یہ چار کس کے بچے ہیں۔اس نے کہا۔چار بچے بھی کوئی بچے ہوتے ہیں۔یہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ پانچ یا سات فیصدی سُودبھی کوئی سود ہے۔سُود تو وہ ہے جو سو فیصدی ہو۔بعض دوسروں نے یہ فتویٰ دے کر کہ غیرمسلموں سے سُود لینا جائز ہے اس کے جواز کی ایک اور راہ نکال لی ہے۔پھر بعض نے یہ فتویٰ دے دیا کہ غیرمذاہب کی حکومتوں کے ماتحت جو مسلمان بستے ہیں ان سے بھی سُود لینا جائز ہے۔آخر یہاں تک کہہ دیا گیا کہ سُود وہ ہوتا ہے جو بہت بڑی رقم کی صورت میں لیا جائے اور پھر اس رقم کو معیّن نہیں کیا گیا کہ کتنی ہو؟ گویا کسی کے لئے بھی روک باقی نہ رہی اور سب کے لئے سود لینا جائز ہو گیا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سُود کو ایسی لعنت قرار دیا ہے کہ آپؐ نے ایک دفعہ فرمایا۔سُود لینے والا اور دینے والا اور اس پر گواہی ڈالنے والا سب کے سب جہنم میں جائیں گے۔(ترمذی کتاب البیوع باب ما جاء فی اکل الربا) درحقیقت سُود سے روکنا اسلام کے اعلیٰ ترین احکام میں سے ہے۔اسلام یہ نہیں چاہتا کہ صرف چند لوگوں کے ہاتھ میں دولت جمع ہو جائے اور باقی لوگ بھوکے مرتے رہیں بلکہ چاہتا ہے کہ سب کو ترقی کی دوڑ میں حصہ لینے کا یکساں موقع ملے اور تمدن اپنی صحیح بنیادوں پر قائم ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کے سُودی کاروبار کو بند کیا جائے۔کیونکہ سُود کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ امراء اس ذریعہ سے روپیہ حاصل کرکے ہر قسم کی تجارت اور صنعت و حرفت اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔پس سُود ہی ہے جس نے اس زمانہ میں چند ہاتھوں میں دولت جمع کر دی ہے اور امراء اور غرباء میں ایک وسیع خلیج حائل ہو گئی ہے۔دراصل اگر غور سے کام لیا جائے تو سُود دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ جو مال دار آدمی اپنا مال بڑھانے کے لئے دوسرے مال داروں سے رقم لے کر ان کو ادا کرتا ہے۔جیسے تاجرپیشہ لوگو ں یا بینکوں کا دستور ہے۔اور ایک وہ سُود ہے جو غریب آدمی اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کسی صاحبِ استطاعت سے قرض لے کر اسے ادا کرتا ہے۔اسلام نے ان دونوں سُودوں سے منع کیا ہے۔اس سُود سے بھی روکا ہے جو تجارت یا جائیداد کو فروغ دینے کے لئے مال داروں سے روپیہ لے کر انہیں ادا کیا جاتا ہے اور اس سُود سے بھی منع کیا ہے جو غریب آدمی اپنی غربت سے تنگ آکر کسی صاحب ِاستطاعت سے قرض لینے کے بعد اسے ادا کرتا ہے اور نہ صرف ایسا سُود دینے سے روکا ہے بلکہ لینے سے بھی منع کیا ہے اور نہ صرف سود لینے دینے سے منع کیا ہے بلکہ گواہی دینے والوں اور معاہدہ لکھنے والوں کو بھی مجرم