تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 503

حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ قرار دیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔سو( یاد رکھو کہ) جس( شخص) کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ (کی بات) آئے اور وہ( اسے سن کر خلاف ورزی سے )باز آجائے تو جو (لین دین) وہ پہلے کر چکا ہے اس کا نفع اسی النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۷۶ کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔اور جو لوگ پھر (وہی کام) کریں وہ( ضرور) آگ (میں پڑنے ) والے ہیں۔وہ اس میں پڑے رہیں گے۔حلّ لُغات۔تَـخَبَّطَہٗ کے معنے ہیں ضَرَبَہٗ شَدِیْدًا۔اسے سخت مارا اور تَخَبَّطَہُ الشَّیْطٰنُ کے معنے ہیں مَسَّہٗ بِاَذًی۔شیطان نے اسے سخت تکلیف پہنچائی۔(اقرب) اَلْمَسُّ کے معنے ہیں اَلْجُنُوْنُ پاگل پن لِاَنَّہٗ عِنْدَ الْعَرَبِ یَعْرِضُ مِنْ مَسِّ الْجِنِّ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کے نزدیک یہ عارضہ جنّات کے چُھونے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سُود خوار لوگوں اورسُود خوار قوموں کی حالت بیان کرتے ہوئے ان مضرات کا ذکر فرمایا ہے جوسُود کے ساتھ وابستہ ہیں اور جن کے نتیجہ میں نہ صرف امراء اور غرباء کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہو جاتی ہے بلکہ دنیا کا امن بھی برباد ہو جاتا ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ ربوٰاکے لفظ میں ہر قسم کاسُود شامل ہے۔اس میں بنکوں کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی۔بلکہ خواہ بنک سے سود لیا جائے یا ڈاکخانہ سے یا کواپریٹو سوسائٹیز سے یا کسی فرد سے ہر صورت میں وہ ناجائز اور حرام ہے۔مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے یوروپین اقوام سے ڈر کرسُود کی عجیب وغریب تعریفیں کرنی شروع کر دی ہیں۔چنانچہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں اس طرح کا سُود لینے کی تو ممانعت ہے کہ سو روپیہ دے کر دو سو لیا جائے لیکن معمولی سود لینے کی ممانعت نہیں کیونکہ یہ سُود نہیں بلکہ منافع ہے۔ان لوگوں کی مثال بالکل اس کشمیری کی سی ہے جس سے کسی نے پوچھا تھا کہ تمہارا کوئی لڑکا بھی ہے؟ اس نے کہا۔کوئی نہیں۔لیکن جب وہ اُٹھا تو