تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 502

ہے اس لئے وہ لوگوں کو ٹیکس کی طرح لازماً ادا کرنی پڑتی ہے اور اس میں مخلص اور غیرمخلص سب کو شامل ہونا پڑتا ہے پس اسلام نے زکوٰۃ کے علاوہ صدقہ بھی رکھ دیا تاکہ لوگوں کو خود بھی اس کا احساس رہے اور ان میں غرباء پروری کا جذبہ ترقی کرے۔پھر زکوٰۃ کے قیام کی ایک غرض دوسروں کے جذبات کا احترام بھی ہے۔کیونکہ زکوٰۃ کا روپیہ حکومت دیتی ہے اس لئےلینے والے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کس نے دیا ہے لیکن دوسری طرف صدقہ آپس کے تعلقات کو بھی خوشگوار بنانے کے لئے رکھا گیا ہے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔غرض کچھ صدقہ غرباء اور فقراء کے لئے حتمی اور قطعی طور پر مقرر کر دیا اور باقی صدقات مخلصین کے امتیاز اور ان کے مدارج میں ترقی کے لئے رکھ دیئے۔دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ جب تک کھیت میں بیج نہ بویا جائے اس وقت تک فصل نہیں ہوتی۔اسی اصول پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کہ پہلے تم اپنے پاس سے کچھ خرچ کرو پھر میں تمہیں دوں گا۔بے شک خدا تعالیٰ بغیر بیج کے بھی پیدا کر سکتا ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے ہی یہ قانون بنا دیا ہے کہ بغیر بیج کے ہم کچھ پیدا نہیں کریں گے اس لئے فرمایا کہ پہلے تم بیج ڈالو۔پھر دیکھو گے کہ ہم اس بیج کو کس طرح بڑھاتے ہیں؟ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ دنیا میں بیج بونے والا کبھی ثمرات سے محروم بھی رہتا ہے۔مثلاً فصل کو آگ لگ جاتی ہے یا چوری ہو جاتی ہے اور اس طرح اس پر خوف و حزن طاری ہو جاتا ہے۔مگر فرمایا ہمارے ہاں ایسا نہ ہو گا۔پھر دنیا میں تو ایک دانہ کے عوض سات سودانے ملتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ اجر دیتا ہے اور وہ غیرمقطوع انعامات سے اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (بالکل) اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں جس طرح الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس پر شیطان( یعنی مرض جنون )کا سخت حملہ ہو۔یہ (حالت) اس وجہ سے ہے کہ وہ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَ کہتے رہتے ہیں کہ( خرید و )فروخت (بھی تو) بالکل سود (ہی )کی طرح ہے۔حالانکہ اللہ نے (خرید و) فروخت کو جائز