تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 494

مطابق ہو۔یہ نہ ہو کہ مثلاً تنخواہ تو چار سو روپیہ ہے اور پانچ روپے چندہ دے کر سمجھ لیا کہ انفاق فی سبیل اللہ کا حق ادا ہو گیا ہے۔پھر مال خرچ کرنے پر سوال ہوتا تھا کہ ہم نے اپنا مال تو لوگوں کو دے دیا مگر اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ اس کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا۔تمہارا یہ مال خرچ کرنا ایسا ہی ہے جیسے زمیندار کھیت میں بیج ڈالتا ہے تو اس سے ہزاروں دانے بن جاتے ہیں۔وہ کبھی یہ نہیں کہتا کہ میں اپنے دانے کیوں ضائع کروں؟ اسی طرح تم بھی یہ مت خیال کرو کہ اگر تم مال خرچ کرو گے تو اس کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ اس کے نتیجہ میں قوم ترقی کرے گی اور قوم کی ترقی سے فرد بھی ترقی کرتا ہے۔دراصل ایسا خیال قلت ِ تدبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ورنہ یوروپین قومیں جنہوں نے اس نکتہ کو خوب سمجھا ہے وہاں دولتمند گو اس بات میں بدنام ہیں کہ وہ ہر وقت عیش و عشرت میں مبتلا رہتے ہیں لیکن وہ پھر بھی غرباء کو ابھارنے اور قوم کو ترقی دینے کے لئے اپنے اموال کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔اور اس طرح عیسائیت کی تقویت کا موجب بنتے ہیں۔وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ فرماتا ہے کہ بے شک غرباء کے لئے اپنے اموال خرچ کرنا قومی نقطہ ٔ نگاہ سے بھی مفید ہے لیکن صرف اس فائدہ کو ہی اپنا مقصد و مدّعا نہ بنا لینا۔ایک مسلمان سے ہم یہ امید کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ خرچ کرے گا خالصۃً لِّٰلہ اور ابْتِغَآءَلِوَجْهِ اللّٰهِ کرےگا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی تعریف کی ہے اور نفی کے طور پر یہ فقرہ بیان کیا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم مومنوں سے اس کے سوا اور کسی چیز کی توقع ہی نہیں کر سکتے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے خرچ کریں گے۔یہ طریق کلام نہی کی نسبت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جیسے اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ میں آپ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ میری واپسی تک آپ یہیںتشریف رکھیں گے۔تو یہ فقرہ بہ نسبت اس بات کے زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ آپ یہیں بیٹھیں۔اور میرے آنے تک کہیں نہ جائیں کیونکہ اس طرح خود اس کے دل میں کام کرنے کی تحریک پیدا کی جاتی ہے۔پھر وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ کہہ کر اس امر کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ بے شک مومنوں کے چندوں سے دنیوی ترقیات بھی حاصل ہوتی ہیں او ردین کو بھی فائدہ پہنچتا ہے مگر اعلیٰ درجہ کے مومن اس سے بالا ہوتے ہیں۔انہیں نہ دنیا کی ترقی مطلوب ہوتی ہے اور نہ جنت کے انعامات ان کا اصل مقصود ہوتے ہیں بلکہ ان کی نیکیوں کا حقیقی محرک صرف یہ جذبہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جائے اور وہ انہیں محبت اور پیار کی نگاہ سے دیکھے۔چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا تمہیں پورا بدلہ دیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ