تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 493

لَيْسَ عَلَيْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ انہیں راہ پر لانا تیرے ذمہ نہیں ہے۔ہاں اللہ( تعالیٰ) جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے۔اور جو اچھا مال بھی تم مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ۠١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ( خدا کی راہ) میں خرچ کرو اور حقیقت یہ ہے کہ تم ایسا خرچ صرف اللہ کی توجہ چاہنے کے لئے ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ کیا کرتے ہو سو اس کا نفع بھی تمہاری (اپنی) جانوں ہی کو ہوگا۔اور جو اچھا مال بھی تم خرچ کرو وہ تمہیں پورا پورا وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۰۰۲۷۳ (واپس کر )دیا جائے گا۔اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ باتیں بیان فرمائی ہیں۔اول رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے متعلق فرمایا کہ لوگوں کو ہدایت دینا تیرے ذمہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ہدایت کے تین معنے ہوتے ہیں اوّل راستہ دکھانا دوم راستہ تک پہنچانا۔سومآگے آگے چل کر منزل مقصود تک لئے جانا (اقرب)۔پہلی قسم کی ہدایت تو ایسی ہے جس میں بندہ بھی شریک ہو جاتا ہے کیونکہ وہ بھی دوسروں کو راستہ دکھا سکتا ہے۔لیکن آخری دو ہدایتیں ایسی ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔یعنی صحیح راستہ تک پہنچانا۔اور پھر اس راستہ پر قائم رکھتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچانا کسی بندہ کے اختیار میں نہیں۔یہاں چونکہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو ہدایت پا چکے ہیں اس لئے فرمایا کہ ان کو ہدایت پرقائم رکھنا اور انہیں منزل مقصود تک پہنچانا یہ تیرا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ جسے قائم رکھنے کے قابل سمجھتا ہے اسے قائم رکھتا ہے اور جسے ناقابل سمجھتا ہے اسے گرا دیتا ہے۔دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ جو کچھ بھی تم خیر میں سے خرچ کرو گے اس کا فائدہ تمہاری جانوں کو ہی ہو گا۔یہاں خَیْـرٌ کا لفظ اس لئے رکھا کہ خیر کے معنے مال کے بھی ہوتے ہیں اور اچھے مال کے بھی۔یعنی ایسے مال کے جو اچھے ذرائع سے کمایا گیا ہو یا مقدار میں زیادہ ہو۔پس خیر کا لفظ استعمال فرماکر اس طرف توجہ دلائی کہ تم صرف اپنا مال ہی خرچ نہ کرو بلکہ یہ بھی دیکھتے رہو کہ وہ مال اچھے ذرائع سے کمایا ہوا ہو اور پھر قربانی بھی اپنی حیثیت کے