تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 492

دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ تمہاری بدیوں کے متعلق اپنے پاس سے کفارہ دے دےگا۔یعنی وہ لوگ جن کے تم نے گناہ کئے ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس سے صلہ دے کر کہے گا کہ یہ ہمارا بندہ ہے ہم تمہیں انعام دے دیتے ہیں تم اس کے گناہ معاف کر دو اس طرح وہ حقوق العباد سے تعلق رکھنے والے گناہ بھی معاف کرا دے گا۔کیونکہ جب نیکی ایک خاص حد تک پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ انسان کی طرف سے وکیل ہو کر بندہ سے اس کا گناہ معاف کرا دیتا او راس کو اپنے پاس سے بدلہ دےدیتا ہے اور اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیتا ہے۔اس کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو خود تمہاری نظروں سے بھی چھپا دے گا۔دراصل انسان کو خواہ کتنا ہی کہا جائے کہ اس کا گناہ معاف ہو گیا ہے پھر بھی یہ خلش اس کے دل میں باقی رہ جاتی ہے کہ میں نے گناہ کیا اور ایک شرمندگی اسے محسوس ہوتی ہے۔اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو خود تمہاری نظروںسے چھپا دے گا یعنی خود تمہیں بھی اپنے گناہ بھلا دے گا اور تم اپنے حافظہ اور ذہن کے کسی گوشہ میں بھی ان کا کوئی نشان نہ دیکھو گے۔سبحان اللہ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ کیا ہی مکمل فقرہ ہے۔یہ ایسا اعلیٰ درجہ کا فقرہ ہے کہ کوئی اور فقرہ اس کی بجائے رکھا ہی نہیں جا سکتا۔کیونکہ گناہ کے متعلق کوئی پہلو ایسا نہیں جو اس میں آنہ گیا ہو۔اخفش نے اس آیت میں من کو زائدہ قرار دیا ہے(املاء ما من بہ الرحمٰن) جوبغرض تاکید بھی ہو سکتا ہے۔اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ تمہاری بدیاں بالکل مٹا دے گا۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شریعت نے زکوٰۃ اور صدقات کو الگ الگ کیوں رکھا ہے۔سو یادرکھنا چاہئے کہ زکوٰۃ بوجہ گورنمنٹ کی معرفت وصول ہونے کے ایک قسم کا ٹیکس معلوم ہوتی ہے۔دوسرے زکوٰۃ کا دینا فرض ہے پس زکوٰۃ نہ دینا یا زائد دینا یا کم دینا انسان کے لئے ناممکن ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے ایک طریق تو زکوٰۃ کا رکھا تاکہ ہرمالدار کچھ نہ کچھ ضرور دے جس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو اور تاکہ غرباء کے لئے بھی کچھ نہ کچھ انتظام ضرور ہو جائے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرا طریق صدقات کا رکھا۔اور صدقہ اس لئے مقرر کیا تا مخلص اور غیر مخلص کا فرق معلوم ہو۔اور انسان کو اپنے ہاتھ سے دینے کی مشق ہو اور تا سِرًّا وَ عَلَانِیَۃً دینے کا اسے موقعہ ملے کہ سرّاً دینا محبت کو بڑھاتا اور گناہوں کو بخشواتا اور ان پر پردہ ڈالتا ہے۔اور علانیۃً دینے سے دوسروں کو بھی صدقات کی تحریک ہوتی ہے۔