تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 491

بڑھا دیا گیا ہے۔لیکن ایک اور نقطہ نگاہ سے پہلے فقرہ میں زیادہ خصوصیت پائی جاتی ہے کیونکہ پہلے فقرہ میں یہ نہیں فرمایا کہ اظہارِصدقہ کس کے لئے اچھا ہے؟ مگر دوسرے فقرہ میں لَکُمْ کہہ کربتایا کہ تمہارے لئے بہتر ہے۔اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم ظاہر طور صدقہ دو گے تو اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے گا کیونکہ جب لوگ کسی کو صدقہ دیتے دیکھیں گے تو کہیں گے آئو ہم بھی اس کی نقل کریں اور انہیں بھی تحریک ہو گی کہ وہ غرباء پروری میں حصہ لیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ (بخاری کتاب الجمعۃ باب الجمعۃ فی القرٰی و المدن) یعنی تم میں سے ہر ایک کی مثال ایک گڈریا کی سی ہے اور ہر ایک کے ساتھ کچھ نہ کچھ بھیڑیں لگی ہوئی ہیں۔جو اس کی نقل کرتی ہیں۔پس اگر کوئی ظاہر طور پر صدقہ دے گا۔تو اس کے بیٹے بھائی یا دوسرے رشتہ دار اسی طرح ملازم دوست اور آشنا وغیرہ بھی اس کی نقل میں صدقہ دیں گے اور یہ نیکی ترقی کرے گی۔دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ آئندہ نسل کو فائدہ پہنچے گا اور بچوں کو بھی صدقہ دینے کی عادت پڑ جائے گی کیونکہ جب وہ اپنے بڑوں کو دیکھیں گے کہ وہ صدقہ دیتے ہیں۔تو سمجھیں گے کہ یہ بھی اچھی بات ہے۔اور اس طرح ان کی نیک تربیت ہو گی۔تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ بعض دفعہ لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں فلاں شخص امداد کا مستحق ہے۔جب وہ دوسروں کو ان کی امداد کرتے دیکھیں گے تو انہیں بھی ان کی غربت کا علم ہو جائے گا اور وہ بھی اپنے طور پر ان کی مدد کرنے لگ جائیں گے۔پھر فرمایا کہ اگر تم پوشیدہ دو گے تو تمہارے اپنے نفس کی اصلاح کے لئے یہ طریق زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس سے ریا پیدا نہیں ہو گا جو ظاہر طور پر دینے سے پیدا ہو سکتا ہے بلکہ اس اخفاء کا ایک خاص انعام بھی بتایا کہ تم دوسروں کی کمزوری چھپائو گے۔تو خدا تعالیٰ تم سے بھی یہی سلوک کرے گا۔چنانچہ فرمایا۔وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ وہ تمہاری بدیوں کو تم سے دور کر دے گا او رتم کو پاک بنادے گا۔اس آیت میں مِنْ تبعیض کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور زائدہ بھی۔اگر مِنْ تبعیضیہ لیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تمہارے بعض گناہ تمہاری طرف سے مٹا دے گا۔اس لئے یہاں یُکَفِّرُلَکُمْ نہیں فرمایا بلکہ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ فرمایا ہے کیونکہ انسانی گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک انسان کے اور ایک خدا کے۔خدا اپنے گناہ تو معاف کر دیتا ہے مگر بندوں کے نہیں۔کیونکہ اس میں ان کی معافی کی شرط ہوتی ہے۔گویا بتایا کہ جب تم غریبوں کی کمزوریوں اور عیبوں کو چھپائو گے اور ایسا طریق اختیار کرو گے کہ لوگوں پر ان کی کمزوری ظاہر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری بعض بدیوں کو مٹا دے گا۔یعنی خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق جو گناہ ہوں گے وہ انہیں معاف کر دے گا۔