تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 490

خدا اور اس کے ملائکہ کی نصرت اور اس کے پاک بندوں کی دعائیں کیسے حاصل ہو سکتی ہیں؟ وہ ان تمام نعمتوں سے محروم رہے گا اور اپنے ہاتھوں اپنی تباہی مول لے گا۔اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ اگر تم علی الاعلان صدقے دو تو یہ (بھی )بہت اچھا (طریق )ہے۔اور اگر تم وہ (یعنی صدقات )چھپا کر تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ غریبوں کو دو تو یہ تمہارے (نفس کے )لئے زیادہ اچھا ہے۔اور وہ (یعنی اللہ اس کےسبب سے) تمہاری کئی بدیوں سَيِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۰۰۲۷۲ کوتم سے دور کر دے گا۔اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے۔حلّ لُغات۔یُکَفِّرْ عَنْکُمْ کَفَّرَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں سَتَرَہٗ اس پر پردہ ڈالا۔اور کَفَّرَ اللّٰہُ لَہُ الذَّنْبَ کے معنے ہیں مَحَاہُ اس کا گناہ مٹا دیا ہے۔اور کَفَّرَعَنْ یَمِیْنِہٖ کے معنے ہیں۔اَعْطٰی مِنْھَا الْکَفَّارَۃَ قسم کا کفارہ دیا۔( اقرب) پس یُکَفِّرُعَنْکُمْ کے معنے ہیں وہ تمہاری کمزوریوں پر پردہ ڈال دے گا یا تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا۔تفسیر۔اس آیت میں صدقات کے ظاہر طور پر خرچ کرنے کے متعلق تو فرمایا کہفَنِعِمَّا هِيَ۔اور پوشیدہ طور پر خرچ کرنے کے متعلق فرمایا خَیْرٌ لَّکُمْ۔نِعِمَّا ھِیَ اصل میں نِعْمَ مَا ھِیَ ہے۔(تفسیر الخازن) یہ طریق کلام مخصوص بالمدح کہلاتا ہے۔اور اس سے مراد نِعْمَ الشَّیْءُ شَیْئًا ہوتا ہے۔جیسے اردو زبان میں بھی کہتے ہیں کہ بس کام ہے تو یہ ہے۔لیکن اخفاء کے لئے خَیْرٌ لَّکُمْ کے الفاظ استعمال فرمائےکیونکہ اظہار کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے اور ان کو بھی صدقات کی تحریک ہوتی ہے جبکہ اخفاء کا اثر صرف انسانی قلب پر پڑتا ہے اور وہ کبر اور مَنْ اور اَذٰی سے محفوظ رہتا ہے۔گویا نِعِمَّا ھِیَ میں وسعتِ دائرہ اور محدود نیکی کا ذکر کیا۔اور خَیْرٌ لَّکُمْ میں محدود دائرہ اور اعلیٰ نیکی کا ذکر کیا۔تُبْدُوْا الصَّدَقٰتِ میں قومی چندے اور تُخْفُوْھَا میں فردی خیرات مراد ہے۔کیونکہ اوّل الذکر کا فائدہ ساری قوم کو اور ثانی الذکر کا فائدہ زیادہ تر اپنے نفس کو پہنچتا ہے۔اسی لئے اس کے ساتھ لَکُمْ کا لفظ