تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 471
کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں باربار تمہیں کہتا ہوں کہ خداتمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے… اگر تم اس قدر خدمت بجالائو کہ اپنی غیرمنقولہ جائدادوں کو اس راہ میں بیچ دو پھر بھی ادب سے دُور ہو گا کہ تم خیال کرو کہ ہم نے کوئی خدمت کی ہے… یہ تمام خیالات ادب سے دُور ہیں اور جس قدر بے ادب جلدتر ہلاک ہو جاتا ہے ایسا جلد کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔‘‘ (تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۵۵۔۵۶) پھر اَذًی کہہ کر اس طرف توجہ دلائی کہ ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ انسان کسی سے کوئی نیک سلوک کر کے اُسے اپنا غلام سمجھ لے اور پھر اس سے مستقل طور پرفائدہ اٹھانا شروع کر دے۔یا چندہ دینے کے بعد کہے کہ میں نے تو اتنا چندہ دیا تھا۔اب مجھے بھی مدد دی جائے اور میری مشکلات کو دُور کیا جائے۔لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ میں یہ خوشخبری دی کہ ایسے لوگ جو خالصۃً لِوجہ اللہ قربانیاں کریں گے وہ اپنے اس اعلیٰ کردار کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی خاص حفاظت میں آجائیں گے اور انہیں اپنے ماضی کی طرف سے بھی سکون قلب عطا کیا جائے گا اور اُن کا مستقبل بھی نہایت شاندار ہو گا۔قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَاۤ اچھی بات(کہنا) اور( قصور) معاف کرنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے ایذا رسانی اَذًى ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِيٌّ حَلِيْمٌ۰۰۲۶۴ (شروع )ہو (جائے )اور اللہ بے نیاز (اور) بردبار ہے۔حلّ لُغات۔قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ کے معنے ہیں کوئی بھلائی کی بات۔مثلاً سائل کو نرمی سے ٹلا دیا جائے یا یہ کہہ دیا جائے کہ ہمارے پاس اس وقت کچھ نہیں۔اَمر بِالْمَعْرُوْفِ کوئی نیکی کی بات کہہ دینا۔(اقرب) مَغْفِرَۃٌ پردہ ڈال دینا۔کسی کا گناہ معاف کر دینا۔کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس سے درگذر کرنا۔(اقرب)