تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 469
کے ذریعے دنیا کے نظام کو بدل دیتا ہے۔اس وقت دنیا کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک زندہ خدا موجود ہے جس کے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں۔ایسے انبیاء کے زمانہ میں ان کی قوموں اور امتوں کو موقعہ دیا جاتا ہے کہ وہ دین کی خدمت کریں۔چونکہ وہ وقت ایک نئی دنیا کی تعمیر کا ہوتا ہے اس لئے لوگوں کو قربانیوں کا موقعہ دیا جاتا ہے۔اور وہی وقت ثواب کے حصول کا ہوتا ہے۔اوپر کے بیان کردہ مفہوم کے علاوہ اس آیت میںغلّہ کی زیادتی کے امکانات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ بعض حالات میں یہ ممکن ہے کہ ایک دانہ سات بالیں نکالے او رہربال میں ایک ایک سودانہ ہو۔یعنی ایک دانہ سات سو گنا ہو جائے۔یا ایک من بیج سے سات سومن گندم پیدا ہو۔او رپھر اسی پر بس نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو اس سے بھی زیادہ بڑھادے۔اس اصول کے مطابق اگر دیکھا جائے تو چونکہ ہمارے ملک میں عام طور پر فی ایکڑ تیس سیر بیج ڈالا جاتا ہے۔اگر ایک دانہ سے سات سو دانہ تک کی پیداوار ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ایک ایکڑ سے ۲۱۰۰۰ سیر اناج پیدا ہو سکتا ہے۔اور یہ ۵۲۵ من بنتے ہیں۔گویا قرآنی اصول کے مطابق ۵۲۵ من فی ایکڑ پیدا وار ہو سکتی ہے۔بلکہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے بھی بڑھا سکتا ہے۔اس وقت لوگ اوسطاً پانچ من فی ایکڑ پیداوار پر گذارہ کر رہے ہیں۔اگر یہ پیداوار بڑھ کر سوا پانچ سو من فی ایکڑ ہو جائے اور زیادتی کا جو وعدہ ہے وہ نہ بھی پورا ہو تب بھی دنیا میں اتنی گندم ہو سکتی ہے۔جو موجودہ آبادی سے کئی گنا زیادہ آبادی کے لئے بھی کافی ہو۔پھر ابھی کئی غیرآباد علاقے پڑے ہیں انہیں آباد کیا جائے تو پیداوار میں اور بھی زیادتی ممکن ہے۔مثلاً افریقہ کے بعض علاقے ہیں جو ابھی غیرآباد ہیں۔آسٹریلیا او رکینیڈا کے علاقوں میں بھی ابھی بہت کم آبادی ہے۔اسی طرح روس کے بعض حصوں میں بھی زمینیں خالی پڑی ہیں۔اگر ان علاقوں کی طرف توجہ کی جائے اور صحیح طور پر زراعت کی جائے اور سائینس کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے تو دنیا میں پیداوار کے لحاظ سے ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہو سکتا ہے اور آبادی میں بھی کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔پھر خرچ کرنے کے بعد مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى ١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ نہ کسی رنگ میں احسان جتاتے ہیں اورنہ کسی قسم کی تکلیف دیتے ہیں ان کے ربّ کے پاس ان (کے اعمال )کا بدلہ