تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 462
خیال کو غلط نہ قرار دےدے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی فرما دیا کہ ہم تمہارے خیال کو رد نہیں کرتے وہ بھی درست ہے۔چنانچہ دیکھو تمہاراکھانااچھی حالت میں ہے سڑا نہیں اور تمہارا گد ھا بھی تندرست اپنی جگہ پر کھڑا ہے جس سے ثابت ہوا کہ تمہارا خیال بھی کہ تم صرف چند گھنٹے اس حالت میں رہے ہو اپنی جگہ درست ہے۔ورنہ جو سو سال تک واقعہ میں مرا رہا ہو اسے یہ نہیں کہا جاتا کہ اپنا کھانا دیکھ وہ سڑانہیں۔اور پھر فرمایا کہ یہ رؤیا ہم نے اس لیے دکھائی ہے تاکہ ہم تجھے لوگوں کےلئے ایک نشان بنائیں۔اب تو ان مُردہ ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم ان کو کس طرح کھڑا کرتے ہیں اور ان پر گوشت پوست چڑھاتے ہیں۔اس کشف اور الہام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشخبری دی کہ ایک سو سال تک یہ شہرآباد ہو جائےگا۔چنانچہ ٹھیک سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس شہر کی ترقی اور آبادی کی صورت پیدا کر دی۔یروشلم کی تباہی دو دفعہ ہوئی ہے ایک دفعہ ۵۹۷ قبل مسیح میں اور دوسری دفعہ یروشلم کی بغاوت پر ۵۸۶ قبل مسیح میں۔اس جگہ سو سال دوسری تباہی سے ہی لئے جائیں گے کیونکہ شہر کو اسی میں برباد کیا گیا تھا۔اس کے بعد ۵۱۹ قبل مسیح میں یر و شلم کی دوبارہ بنیاد رکھی گئی اور تیس سال تک تعمیر جاری رہی جس کے نتیجہ میں ۴۸۹ قبل مسیح میں یر وشلم صحیح طور پر آ باد ہوا۔پس درمیانی فاصلہ قر یباً سو سال(۹۸سال) کا ہی ثا بت ہوتا ہے۔( جیوش انسائیکلو پیڈیا ،بلیکس بائیبل ڈکشنری زیر لفظ Jerusalam) وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا کے الفاظ یہود کے اس قول کے مطا بق استعمال کئے گئے ہیں جس کا حز قیل نبی کی کتا ب میں بھی ذکر آ تا ہے کہ ’’ ہماری ہڈیاں سو کھ گئیں اورہماری امید جا تی رہی۔ہم تو بالکل فنا ہو گئے‘‘ (حز قیل باب ۳۷ آ یت ۱۱) اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا یا کہ تم ایک بار پھر زندہ ہو گے اور پھر اپنی کھو ئی ہوئی طا قت اور عظمت حا صل کرو گے۔غرض اس واقعہ کے متعلق با ئیبل سے رؤیا بھی مل گیا۔بنی اسرا ئیل کی ہڈیوں پر گو شت کا چڑھا یا جا نا بھی ثابت ہو گیا۔اسی طرح حزقیل نبی کو پکڑ کر لے جا نا بھی ثابت ہو گیااور پھر سو سال کےبعدیروشلم کا دوبارہ آباد ہو نا بھی تاریخ سے ثابت ہو گیا۔حز قیل نبی کوپہلے تو صدمہ ہوا کہ یہ کیا ہو گیا ہے؟ مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا یا کہ یہ ہمیشہ کی تبا ہی نہیں تو انہوں نے کہا اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔خدا یا !اب میری تسلّی ہو گئی ہے۔اور گو بظاہر ان حالات کا بد لنا نا ممکن نظر آ تا ہے مگر یہ بات یقیناً ہو کر رہے گی۔اور خدا تعالیٰ دوبارہ اس شہر اور قوم کو تر قی عطا فرمائے گا۔