تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 448

هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَؒ۰۰۲۵۸ وہ اس میں پڑے رہیںگے۔تفسیر۔فر ما تا ہے۔اللہ مو منوں کا دوست اور مددگار ہے۔اور وہ ایمان لانے والوں کو اندھیروں سے روشنی کی طر ف لاتا ہے۔عر بی زبان کے محا ورہ میں کا میابی کی طرف لے جا نے کو ظلمت سے نور کی طرف لے جانے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔خواہ وہ کامیابی جسما نی ہو یا روحانی۔پس اس سے مراد مو منوں کی جماعت کو ہر قسم کی روحا نی اور جسما نی کامیابیوں کی طرف لے جا نا اور انہیں ہر قسم کی نا کا میوں اور تکا لیف سے نجا ت دلا نا ہے۔وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ۠ الطَّاغُوْتُ١ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ۠ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ۔یہاں طا غوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو شیطا ن کے قا ئم مقام ہو تے ہیں۔وہ لوگوں کو اس تھوڑی بہت ہدایت سے بھی جس پر وہ قا ئم ہو تے ہیں دور پھینک دیتے ہیں۔یہ مت خیال کر و کہ کفار میں نور کہاں سے آ یا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ نہیںکیا تھا۔اس وقت ابو جہل ایسا بُرا نہیں تھا جیسا کہ اس وقت تھا جب کہ وہ مارا گیا۔بات یہ ہے کہ صداقت کے انکار سے انسان کے قلب پر زنگ لگ جاتا ہے اور ہو تے ہو تے وہ تھوڑا بہت نور جو اس کے دل میں ہو تاہے وہ بھی جا تا رہتا ہے۔حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوۃ السلام کی بعثت سے پہلے بعض صداقتیں ایسی تھیں جن کو لوگ مانتے تھے مگر اب ان کا بھی انکار کر رہے ہیں۔مثلاً مسلمان خطیب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت سے پہلے اپنے منبر وں پر کھڑے ہو ہو کر یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ع مو سیٰ کجا عیسٰی کجا اس بات کا ہے سب کو غم مگر اب ان کی کتا بوں سے یہ شعر غا ئب ہو گیا ہے۔اسی طرح ان میںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت کا اعتقاد رکھنے والے لو گ بھی مو جود تھے جیسا کہ مولوی محمد قا سم صا حب نا نو توی ہیں۔انہوں نے اپنی کتا ب تحذیرالناس میں صاف لکھا ہے کہ بغیرشر یعت کے نبی ہو سکتا ہےمگر اب سب لو گ اس کا انکار کر رہے ہیں۔پس نبی کے آ نے سے پہلے بعض لو گو ں کے عقا ئد اچھے ہو تے ہیں مگر جب وہ نبی کا انکار کر دیتے ہیں اور انہیں ان کے پہلے عقیدہ کی رُو سے پکڑا جا تا ہے تو وہ اپنا پہلو بچا نے کے لئے اس کا بھی انکار کر دیتے ہیں۔لیکن جو شخص صداقت کو قبول کر تا ہے وہ روز بروز اپنے ایمان میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔