تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 445

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (یعنی کعبہ) کو لوگوں کے لئے باربار جمع ہونےکی جگہ اور امن (کا وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى مقام)بنایا تھا اور (حکم دیا تھا کہ) ابراہیم ؑ کے کھڑےہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بنائو اور اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ ہم نے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کوتاکیدی حکم دیا تھا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور وَ الْعٰكِفِيْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۰۰۱۲۶ اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجد ہ کرنے والوں کے لئے پاک (اور صاف) رکھو۔حَلّ لُغَات۔مَثَا بَۃٌ کے معنے ہیں مُجْتَمَعُ النَّاسِ بَعْدَ تَفَرُّقِھِمْ وہ جگہ جہاں متفرق ہونے کے بعد لوگ جمع ہوتے ہیں۔(اقرب) مفردات راغب میں لکھا ہے۔اَلْمَثَا بَۃُ: اَلْمَکَانُ الَّذِیْ یُکْتَبُ فِیْہِ الثَّوَابُ۔مثابہ اس مقام کو کہتے ہیں جہاں آنے کی وجہ سے انسان کو ثواب حاصل ہوتا ہے۔وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً میں مَثَا بَۃً کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔اوّل یہ مفعول ثانی ہے اور جَعَلَ بمعنے صَیَّرَ ہے۔اس لحاظ سے اِس کے معنے یہ ہیں کہ صَیَّرْنَا الْبَیْتَ مَثَا بَۃً ہم نے خانہ کعبہ کو مثابہ بنایا ہے۔دوسرے مَثَا بَۃً حال بھی ہو سکتا ہے یعنی جَعَلْنَا اْلبَیْتَ حَالَ کَوْنِہٖ مَثَا بَۃً لِّلنَّاسِ۔اس صورت میں جَعَلَ بمعنے صَیَّرَ نہیں بلکہ بنانے کے ہوںگے اور مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے خانہ کعبہ ایسے حال میں بنایا ہے کہ وہ اپنے اندر مثابہ کی خصوصیات رکھتا تھا۔اَ مْنٌ کے معنے ہوتے ہیں۔(۱) اطمینان قلب (۲) سَلَامَۃٌ مِّنَ الْخَوْفِ۔دل کا اطمینان اور ظاہری خطرات سے نجات۔جب انسان ظاہری خطرات سے بھی محفوظ ہو اور اس کے دل کو بھی اطمینان حاصل ہو تو یہ کامل امن ہوتا ہے۔مِنْ کے کئی معنے ہیں۔مگر اس جگہ یہ تبعیضیہ بھی ہو سکتا ہے اور زائدہ بھی۔زائد ہ کے یہ معنے نہیں کہ وہ زائد ہے اور کوئی معنے نہیں دیتا بلکہ یہ عربی زبان کی ایک اصلاح ہے جو زور دینے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ایسا مِنْ