تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 444
حالا نکہ اسلام اگر ایک طرف جہاد کے لئے مسلما نوں کو تیار کر تا ہے جیسا کہ اس سورۃ میں وہ فر ما چکا ہے کہ وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ (البقرۃ: ۱۹۱) یعنی تم ا للہ تعالیٰ کی راہ میں ان لو گوں سے جنگ کر و جو تم سے جنگ کر تے ہیں۔تو دوسری طرف وہ یہ بھی فر ما تا ہے کہ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ۔یعنی جنگ کا جو حکم تمہیں دیا گیا ہے اس سے یہ نہیں سمجھنا چا ہیے کہ لو گو ں کو مسلمان بنا نے کے لئے جبر کر نا جا ئز ہو گیا ہے بلکہ جنگ کا یہ حکم محض دشمن کے شر سے بچنے اور اس کے مفا سد کو دور کر نے کے لئے دیا گیا ہے۔اگر اسلا م میں جبر جا ئز ہو تا تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ قرآن کریم ایک طر ف تو مسلما نوں کو لڑا ئی کا حکم دیتا اور دوسری طر ف اسی سورۃ میں یہ فر ما دیتا کہ دین کے لئے جبر نہ کرو۔کیا اس کا وا ضح الفا ظ میں یہ مطلب نہیں کہ اسلام دین کے معا ملہ میں دوسروں پر جبر کر نا کسی صورت میں بھی جا ئز قرار نہیں دیتا؟ پس یہ آ یت دین کے معا ملہ میں ہر قسم کے جبر کو نہ صرف نا جا ئز قرار دیتی ہے بلکہ جس مقام پر یہ آیت وا قع ہے اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام جبر کے با لکل خلاف ہے۔پس عیسا ئی مستشر قین کا یہ اعتراض با لکل غلط ہے کہ اسلا م تلوار کے ذریعہ غیر مذ اہب والوں کو اسلام میں داخل کر نے کا حکم دیتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی وہ سب سے پہلا مذہب ہے جس نے دنیا کے سا منے یہ تعلیم پیش کی کہ مذہب کے معاملہ میں ہر شخص کو آ زادی حا صل ہے اور دین کے بارہ میں کسی پر کوئی جبر نہیں۔قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ یہ جملہ مستا نفہ ہے یعنی اس سے پہلے ایک جملہ مقدر ہے جس کا یہ جوا ب دیا گیا ہے۔چو نکہ ا للہ تعالیٰ نے یہ فر ما یا تھا کہ دین کے لئے جبر جائز نہیں۔اس لئے سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب دین ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے تو کیوں اس کے لئے لو گوں پر جبر نہ کیا جائے۔اور انہیں بزور اس نعمت سے متمتع نہ کیا جائے؟ا للہ تعالیٰ اس سوال کے جواب میں فر ما تا ہے جب گمراہی اور ہدایت ظا ہر ہو گئی ہے تو اب جبر کی ضرورت نہیں۔صرف ہدایت کا پیش کردینا تمہارا کام ہے۔کیو نکہ جو حق بات تھی وہ گمراہی اور ضلالت کے با لمقا بل پورے طور پر ظا ہر ہو گئی ہے۔غرض اس آیت میں خدا تعالیٰ نے وجہ بیان فر مائی ہے کہ کیوں اسلام کو جبر کی ضرورت نہیں۔فر ما تا ہے۔جبر اس وقت ہو تا ہے۔جب کو ئی بات دلیل سے ثا بت نہ ہو سکے۔یا جس کو سمجھا یا جائے۔وہ سمجھنے کے قا بل نہ ہو۔مثلاً ایک بچہ کی عقل چو نکہ کمزور ہوتی ہے۔اس لئے بسا اوقات اس کی مر ضی کے خلا ف اور جبر کر نےوالے کی مر ضی کے موا فق کام کر نے پر مجبور کیا جاتا ہے۔لیکن اس بچہ میں جب عقل آ جا تی ہے تو پھر وہ اپنے آ پ ہی سمجھ جاتا ہے اور اپنے نفع اور نقصان کو سوچ سکتا ہے۔اس حالت میں اس پر کو ئی جبر نہیں کر تا۔اسلام کے متعلق ا للہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ اس میں ہر قسم کے دلائل کو کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔اس لئے اسے منوانے کے لئے کسی پر جبر کر نے کی ضرورت نہیں۔بلکہ