تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 443

َاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ١ۚ فَمَنْ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر (جائز) نہیں۔(کیونکہ )ہدایت اور گمراہی کا (باہمی )فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ يُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ پس( سمجھ لو کہ) جو شخص (اپنی مرضی سے )نیکی سے روکنے والے(کی بات ماننے) سے انکار کرے اور اللہ پر ایمان بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۰۰۲۵۷ رکھے تو اس نے (ایک)نہایت مضبوط قابل اعتماد چیز کو جو (کبھی) ٹوٹنے کی نہیں مضبوطی سے پکڑ لیا۔اور اللہ بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔حلّ لُغات۔رُشْدٌ رشد کے معنے ہیں صداقت پر استقلال سے قائم رہنا نیز یہ غَیٌّ کے اضداد میں سے ہے۔(اقرب) اَلْغَیُّ کے معنے ہیں اَلضَّلٰلَۃُ۔گمراہی۔اَلْھَلَٓا کَۃُ۔تباہی۔اَلْخَیْبَۃُ: ناکا می۔( اقرب) اَلطَّا غُوْتُ طَغٰی سے نکلا ہے جس کے معنے ہر ایسی چیز کے ہیں جو حد سے نکل جا ئے۔اور سر کش ہو جائے طاغوت کے ان معنوں میں شیطان بھی شا مل ہے کیو نکہ وہ انسا ن کو سر کشی کی طرف لے جا تا ہے اور اس میں وہ انسان بھی شا مل ہیں جو لو گوں کو خدا تعالیٰ سے دور کر تے ہیں۔(اقرب) اِسْتِمْسَاکٌ کے معنےپکڑنے کے ہیں۔(اقرب) اَلْعُرْ وَۃُ اَلْعُرْوَۃُ مِنَ الدَّ لْوِ وَ الْکُوْزِ الْمِقْبَضُ اَیْ اُذُ نُھُمَا۔یعنی عُروہ ڈول یا لو ٹے کے دستہ کو کہتے ہیں جس سے اسے پکڑا جا تا ہے۔اسی طرح عروہ کے معنے مَا یُوْ ثَقُ بِہٖ کے بھی ہیں۔یعنی ایسی چیز جس پر اعتبار کیا جائے۔گویا ہر ایسی چیز جس پر سہارا لیا جائے یا جس پر اعتماد کیا جا سکے وہ عُروہ کہلاتی ہے۔اسی طرح عُروہ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو کبھی ضا ئع نہ ہو نے والی ہو چنا نچہ عُروہؔ اس گھاس کو کہتے ہیں جو ہمیشہ ہرا ر ہے اور عروہ کے معنے اَلنَّفِیْسُ مِنَ الْمَا لِ کے بھی ہیں۔یعنی اچھا اور بہتر ین مال۔(اقرب) تفسیر۔یہ عجیب بات ہے کہ اسلام پر یہ اعتراض کیا جا تا ہے کہ وہ جبر سے دین پھیلا نے کی تعلیم دیتا ہے