تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 442
یہ قرار دیا گیا کہ دنیا کی لمبائی روشنی کے چھ ہزار سال کے برابر ہے۔مگر اس کے بعد تحقیق ہو ئی کہ یہ سب باتیں غلط ہیں۔ہم دنیا کی لمبائی کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے کیو نکہ جس طر ح بچہ کا قد بڑ ھتا ہے اسی طرح دنیا بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔اور اب اس کی لمبا ئی روشنی کے بارہ ہزار سالوں کے برابر سمجھی جا تی ہے۔اس کی طر ف قرآ ن کریم کی اس آ یت میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ( الز مر:۶۸) یعنی سب کی سب زمین اس کی مملو کہ ہے۔اور آ سمان اور زمین دونوں قیامت کے دن اس کے دائیں ہا تھ میں لپٹے ہو ئے ہو ںگے۔اور جوچیز خدا کی مٹھی میں ہواس کا اندازہ انسان کہاں لگا سکتا ہے ؟یہی وجہ ہے کہ جب انسان کا علم اندازے کے قریب قریب پہنچنے لگتا ہے تو خدا تعالیٰ کائنات کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔غرض اس نئے علم سے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ کی صداقت کا سا ئینس نے اقرار کر لیا ہے۔اور دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ زمین و آ سمان کی وسعت کا اندازہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کو ئی نہیںکر سکتا۔وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا۔پھر کو ئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا علم حا صل کر نے کے لئے تو اپنے درباری مقرر نہیں کئے لیکن کام کرنے کے لئے کچھ مددگار تو ضرور مقررکئے ہو ںگے تا کہ وہ اس کا ہاتھ بٹا ئیں۔فر ما یا اللہ کو اس کی بھی ضرورت نہیں۔وہ سب کام خود کر رہا ہے اور ا للہ تعالیٰ کی طا قت ایسی وسیع ہے کہ کو ئی چیز اس کے قبضہ سے باہر نہیں۔اور نہ کسی چیز کا انتظام اس کو تھکا سکتا ہے۔اب ایک ہی اعتراض رہ جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ مانا خدا کو علم کے لئے اور مدد کے لئے کسی کی ضرورت نہیں مگر شان و شو کت بھی تو کوئی چیز ہے اس کے اظہار کےلئے ہی اس نے درباری مقرر کئے ہوںگے۔اس اعتراض کو وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُکہہ کر ردّ فر ما دیا۔یعنی وہ بہت بڑا ہے اور کو ئی چیز نہیں جو اس کے سا تھ مل کر اس کے رتبہ کو بڑھا سکے۔جو چیز خدا کے ساتھ ملے گی اس کا اپنا ہی رتبہ بڑھے گانہ کہ خدا کا۔پس یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے شان و شوکت کے لئے درباری مقرر کئے ہو ںگے ٹھیک نہیں۔وہ بہت بلند اور بڑی شان رکھنے والا ہے۔عَلِیٌّ میں اس کی رفعت اور بلندی کی طر ف اور عَظِیْمٌ میں اس کی طا قتوں کی وسعت کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہ وہ خدا ہے جو اسلام پیش کر تا ہے۔اگر ایسے خدا کے ہوتے ہوئے کو ئی کسی اور طرف جائے تو کتنے بڑے افسوس کی بات ہے اگر کسی شخص کو نہایت عمدہ کھا نا ملے اور وہ اسے چھوڑ کر نجا ست کی طرف دوڑے۔اگر کسی شخص کو عمدہ کپڑا ملے اور وہ اسے چھوڑ کر میلی کچیلی لنگو ٹی باندھ لے تو بتاؤ کیا وہ دانا اور عقلمند کہلا نے کے قابل ہو گا؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔دانا وہی ہے جو بہتر چیز کو پسند کرے۔پس ا للہ تعالیٰ سےبہتر اور کو ئی نہیں۔