تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 441
نہیں کر سکتا۔پھر فر ما تا ہے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ۔اللہ تعالیٰ کا علم آ سمان اور زمین کو گھیر ے ہوئے ہے۔یعنی اسے ہر چیز کا انتہا ئی علم ہے اورکوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے علم سے با ہر ہو۔انسانی علم با لکل محدود ہو تا ہے۔بعض اوقات وہ ایک چیز کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھی ہے لیکن اس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے جیسے حضرت مسیح مو عود علیہ الصلوةوالسلام کو میر عباس علی لدھیا نوی کے متعلق ایک وقت علم دیا گیا کہ وہ نیک ہے تو آ پ اس کی تعریف فرمانے لگے مگر چونکہ اس وقت آپ کو اس کے انجام کا علم نہیں تھا اس لئے آپ کو پتہ نہ لگا کہ ایک دن وہ مر تد ہوجائےگا۔لیکن بعد میںاللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا علم دے دیا۔غرض انسانی علم بہت ہی محدود ہے صرف خدا تعالیٰ ہی کا مل علم رکھتا ہے جو سب پر حا وی ہے اور کو ئی شخص اس کے علوم کا احا طہ نہیں کر سکتا۔پھر وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ میں سا ئینس کے اس عظیم الشان نکتہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ کائنات عالم کی لمبا ئی کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی نہیں جا نتا۔اس زما نہ میں جس حد تک علم ہیئت میں تر قی ہو چکی ہے۔اتنی پہلے کبھی نہیں ہو ئی۔آ ج دنیا کی لمبا ئی کا اندازہ میلوں میں نہیں لگا یا جاتا۔مثلاً یہ نہیں کہا جاتا کہ ایک زمین سے دوسری زمین تک اتنے میل کا فا صلہ ہے بلکہ اس لمبائی کا اندازہ روشنی کی رفتار سے لگا یا جا تا ہے۔روشنی ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ اسی ہزار میل چلتی ہے اور دنیا کی وسعت کا اندازہ اس نور کی روشنی سے لگا تے ہیں۔گویا یہ بھی اَللّٰہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ(النور: ۳۶) کی صدا قت کا ثبوت ہے کیو نکہ اس آ یت میں بتا یا گیا تھا کہ زمین و آ سمان کی وسعت کا اندازہ تم کسی چیز سے نہیں لگا سکتے صرف نور اور اس کی رفتار سے ہی لگا سکتے ہو۔غرض جب ایک سیکنڈ میں روشنی ایک لاکھ اسّی ہزار میل چلتی ہے۔تو ایک منٹ میںایک کروڑ آ ٹھ لاکھ میل چلے گی۔پھر اسے ایک گھنٹہ کے ساتھ ضرب دو تو یہ ۶۴ کروڑ ۸۰ لاکھ میل بنتے ہیں۔ان میلوں کو ایک دن کی روشنی کا حساب لگا نے کے لئے ۲۴ سے ضرب دیں تو یہ ۱۵ ارب ۵۵ کروڑ ۲۰ لاکھ میل رفتار بن جاتی ہے۔اب پھر ایک سال کی رفتار کا حساب لگا نے کے لئے ۳۶۰ دنوں سے ضرب دیں تو ۵۵ کھرب ۷۶ ارب ۷۲ کروڑ میل بنتے ہیں۔یہ حساب صرف روشنی کے ایک سال کی لمبا ئی کا ہو تا ہے۔لیکن دنیا کی لمبا ئی علم ہیئت والے روشنی کے تین ہزار سال قراد دیتے تھے۔پس ان اعداد کو تین ہزار سال سے ضرب دینی ہو گی۔اب اس کا حاصل ضرب جو نکلے وہ حسا بی لحاظ سے در حقیقت نا قا بلِ اندازہ ہی ہو جا تا ہے۔کیو نکہ اربوں کے اوپر کا حساب در حقیقت حساب ہی نہیں سمجھا جا تا مگر یہ حساب یہیں ختم نہیں ہو گیا۔جوں جوں نئے آ لات دریا فت ہو رہے ہیںیہ اندازے بھی غلط ثا بت ہو رہے ہیں۔پہلی جنگ عظیم کے بعد