تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 440
ہے کہ اب یہ تیسری تجلّی کے قا بل ہو <mark>گیا</mark> ہے۔تو <mark>اس</mark> پر اپنی تیسری تجلّی ظاہر کر تا ہے اور وہ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> کے قر ب میں بڑھتا چلا جا تا ہے۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے <mark>اس</mark> کیفیت کو ایک نہا یت ہی لطیف مثال کے سا تھ وا ضح فر ما یا ہے۔آپ فر ما تے ہیں کہ <mark>جو</mark> <mark>شخص</mark> دوزخ میں سب سے پیچھے رہ جا ئےگا۔اللہ <mark>تعالیٰ</mark> <mark>اس</mark>ے کہے گا کہ ما نگو مجھ سے کیا ما نگتے ہو وہ کہے گا بس یہی ما نگتا ہوں کہ مجھے دوزخ سے نکال <mark>دیا</mark> جائے۔اللہ <mark>تعالیٰ</mark> فر مائےگا کہ اچھا۔اور وہ <mark>اس</mark>ے دوزخ سے نکال لے گا۔جس سے <mark>اس</mark>ے بہت خوشی ہو گی لیکن کچھ روز کے بعد <mark>اس</mark>ے دور ایک سر سبز و شا داب درخت نظر آئےگا اور <mark>اس</mark> کے دل میں لا لچ پیدا ہو گا کہ اگر میں وہاں پہنچ کر <mark>اس</mark> کے نیچے بیٹھ سکوں تو کیا اچھا ہو۔کچھ مدت تک تو وہ <mark>اس</mark> خیال کے اظہار سے رکے گا۔مگر آ خر<mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> سے کہے گا کہ ہے تو بڑی بات لیکن اگر آ پ مجھ پر رحم کر کے <mark>اس</mark> درخت کے نیچے بیٹھنے دیں تو بہت مہر بانی ہو گی۔اللہ <mark>تعالیٰ</mark> <mark>اس</mark> کی بات کو مان لےگا اور <mark>اس</mark> درخت کے نیچے <mark>اس</mark>ے پہنچا <mark>دے</mark>گا۔آخر جب وہ <mark>اس</mark> درخت کے نیچے کچھ عرصہ تک راحت حاصل کر لے گا تو پھراللہ <mark>تعالیٰ</mark> امتحان کے لئے <mark>اس</mark> سے بہتر درخت <mark>اس</mark> سے کچھ فاصلے پر ظاہرکرے گا۔اور پھر وہ لا لچ کر ے گا کہ وہ <mark>اس</mark> کے نیچے بیٹھے کچھ مدت تک تو وہ اپنے نفس کی <mark>اس</mark> خواہش کو بر داشت کر ے گا اور کہے گا کہ میں اب اللہ <mark>تعالیٰ</mark> سے یہ سوال کس طرح کروں؟لیکن آ خر وہ درخو<mark>اس</mark>ت کر ہی <mark>دے</mark>گا اور کہے گا کہ آئندہ اور کچھ نہ مانگوںگا۔تب <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> <mark>اس</mark>ے وہاں لے جائےگا۔اورپھر وہ دور سے جنت کا دروازہ دیکھے گا اور آ خر <mark>اس</mark> سے با ہر رہنا برداشت نہیں کرےگا۔اور <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> سے کہےگا کہ مجھے <mark>اس</mark> جنت کے دروازہ کے آ گے تو بٹھا <mark>دے</mark> میں اندر جانے کی درخو<mark>اس</mark>ت نہیں کر تا۔<mark>صرف</mark> با ہر بیٹھا <mark>دے</mark> وہیں سے لطف حاصل کر لو ںگا۔اللہ تعالی <mark>اس</mark> سے پو چھے گا کیا تو <mark>اس</mark> کے بعد تو کچھ نہیں ما نگے گا۔بندہ کہےگا نہیں <mark>اس</mark> پراللہ <mark>تعالیٰ</mark> اُسے جنت کے دروازے پر بٹھا <mark>دے</mark> گا لیکن وہاں <mark>اس</mark>ے کس طر ح چین حاصل ہو <mark>سکتا</mark> ہے آ خر وہ بے تاب ہو کر کہےگا کہ یا اللہ مجھے دروازہ کے اندر کی <mark>طرف</mark> بٹھا <mark>دے</mark>۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ مجھے جنت کی نعماء <mark>دے</mark>۔میں <mark>صرف</mark> یہ کہتا ہوں کہ دروازہ کے اندر بٹھا <mark>دے</mark> <mark>اس</mark> پراللہ <mark>تعالیٰ</mark> ہنسے گا اور کہےگا کہ میرے بندہ کی حرص کہیں ختم نہیں ہوتی۔جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ اور جہاں چا ہو رہو۔(مشکٰوة کتاب احوال القیامۃ و بدء الخلق باب الحوض و الشفاعۃ) <mark>غرض</mark>یکہ پہلے اللہ <mark>تعالیٰ</mark> ایک ہلکی سی تجلّی دکھاتا ہے اور <mark>اس</mark>ے دیکھ کر جب ملائکہ صفت انسان بے تاب ہو جاتا ہے اور دعائیں کرتا ہے کہ <mark>خدا</mark>یا !تو مجھے کا مل تجلی دکھا تو پھراللہ <mark>تعالیٰ</mark> <mark>اس</mark>ے دوسرے مقام کی پہلے ہلکی سی تجلی دکھا تا ہے اور پھر پوری تجلی اور یہ سلسلہ <mark>اس</mark>ی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے۔بہر حال اللہ <mark>تعالیٰ</mark> کی ہستی غیر <mark>محدود</mark> ہے اور کوئی <mark>شخص</mark> <mark>اس</mark> کا احا طہ