تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 440

ہے کہ اب یہ تیسری تجلّی کے قا بل ہو گیا ہے۔تو اس پر اپنی تیسری تجلّی ظاہر کر تا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے قر ب میں بڑھتا چلا جا تا ہے۔رسول کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کیفیت کو ایک نہا یت ہی لطیف مثال کے سا تھ وا ضح فر ما یا ہے۔آپ فر ما تے ہیں کہ جو شخص دوزخ میں سب سے پیچھے رہ جا ئےگا۔اللہ تعالیٰ اسے کہے گا کہ ما نگو مجھ سے کیا ما نگتے ہو وہ کہے گا بس یہی ما نگتا ہوں کہ مجھے دوزخ سے نکال دیا جائے۔اللہ تعالیٰ فر مائےگا کہ اچھا۔اور وہ اسے دوزخ سے نکال لے گا۔جس سے اسے بہت خوشی ہو گی لیکن کچھ روز کے بعد اسے دور ایک سر سبز و شا داب درخت نظر آئےگا اور اس کے دل میں لا لچ پیدا ہو گا کہ اگر میں وہاں پہنچ کر اس کے نیچے بیٹھ سکوں تو کیا اچھا ہو۔کچھ مدت تک تو وہ اس خیال کے اظہار سے رکے گا۔مگر آ خرخدا تعالیٰ سے کہے گا کہ ہے تو بڑی بات لیکن اگر آ پ مجھ پر رحم کر کے اس درخت کے نیچے بیٹھنے دیں تو بہت مہر بانی ہو گی۔اللہ تعالیٰ اس کی بات کو مان لےگا اور اس درخت کے نیچے اسے پہنچا دےگا۔آخر جب وہ اس درخت کے نیچے کچھ عرصہ تک راحت حاصل کر لے گا تو پھراللہ تعالیٰ امتحان کے لئے اس سے بہتر درخت اس سے کچھ فاصلے پر ظاہرکرے گا۔اور پھر وہ لا لچ کر ے گا کہ وہ اس کے نیچے بیٹھے کچھ مدت تک تو وہ اپنے نفس کی اس خواہش کو بر داشت کر ے گا اور کہے گا کہ میں اب اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کس طرح کروں؟لیکن آ خر وہ درخواست کر ہی دےگا اور کہے گا کہ آئندہ اور کچھ نہ مانگوںگا۔تب خدا تعالیٰ اسے وہاں لے جائےگا۔اورپھر وہ دور سے جنت کا دروازہ دیکھے گا اور آ خر اس سے با ہر رہنا برداشت نہیں کرےگا۔اور خدا تعالیٰ سے کہےگا کہ مجھے اس جنت کے دروازہ کے آ گے تو بٹھا دے میں اندر جانے کی درخواست نہیں کر تا۔صرف با ہر بیٹھا دے وہیں سے لطف حاصل کر لو ںگا۔اللہ تعالی اس سے پو چھے گا کیا تو اس کے بعد تو کچھ نہیں ما نگے گا۔بندہ کہےگا نہیں اس پراللہ تعالیٰ اُسے جنت کے دروازے پر بٹھا دے گا لیکن وہاں اسے کس طر ح چین حاصل ہو سکتا ہے آ خر وہ بے تاب ہو کر کہےگا کہ یا اللہ مجھے دروازہ کے اندر کی طرف بٹھا دے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ مجھے جنت کی نعماء دے۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ دروازہ کے اندر بٹھا دے اس پراللہ تعالیٰ ہنسے گا اور کہےگا کہ میرے بندہ کی حرص کہیں ختم نہیں ہوتی۔جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ اور جہاں چا ہو رہو۔(مشکٰوة کتاب احوال القیامۃ و بدء الخلق باب الحوض و الشفاعۃ) غرضیکہ پہلے اللہ تعالیٰ ایک ہلکی سی تجلّی دکھاتا ہے اور اسے دیکھ کر جب ملائکہ صفت انسان بے تاب ہو جاتا ہے اور دعائیں کرتا ہے کہ خدایا !تو مجھے کا مل تجلی دکھا تو پھراللہ تعالیٰ اسے دوسرے مقام کی پہلے ہلکی سی تجلی دکھا تا ہے اور پھر پوری تجلی اور یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی ہستی غیر محدود ہے اور کوئی شخص اس کا احا طہ