تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 431

لئے صدقہ و خیرات کر نے کی بار بار تا کید فرمائی ہے۔اور بتا یا ہے کہ تمہارے سا تھ تر قیات کے جو وعدے کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ ہمیں اب مزید قر با نیوں کی ضرورت نہیں قربانیاں تمہیں قدم قدم پر کر نی پڑیں گی اور قدم قدم پر تمہیں اپنے اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں خر چ کر نے پڑیں گے۔لَا بَيْعٌ فِيْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ میں جس بیع کی طرف اشارہ ہے اس کا ذکر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فر مایا ہے اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُئْو مِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ (التو بۃ: ۱۱۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے مو منوں سے ایک بیع کی ہے اور وہ یہ کہ ان کے مالوں اور جا نوں کو جنت دےکر خرید لیا ہے۔پس فر ما یا خدا تعالیٰ تم سے یہ بیع کر تا ہے۔مگر یہ بیع اسی دنیا میں ہو گی اس دن نہیں ہو گی۔وَ لَا خُلَّةٌ میں بتا یا کہ قیا مت کے دن خدا تعالیٰ کے سوا سب خلیل جا تے رہیں گے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں تو دوسری جگہ آ تا ہے اَ لْاَخِلَّاءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُ وٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ( الزخرف : ۶۸) یعنی متقیوں کے سوا تمام خلیل ایک دوسرے کے دشمن ہوںگے۔پھر جب متقیوں کی دوستی رہے گی تو لَا خُلَّةٌ کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ متقی چو نکہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا خلیل سمجھتے ہیں اس لئے ان کی دوستی خدا تعالیٰ کی دوستی میں شا مل ہو گی اس کا کو ئی علیحدہ وجود نہیں ہو گا جو وَ لَا خُلَّةٌ کے منا فی ہو۔اصل مضمو ن جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ آ ج اگر خدا تعالیٰ کو خلیل بنا نا ہے تو بنا لو ورنہ اس دن وہ خلیل نہیں بنے گا۔اور آج جن کو تم اپنا خلیل بنا رہے ہو ان کی خلت اور دوستی اس دن تمہارے کسی کام نہیں آ ئےگی بلکہ تم ان کے دشمن بن جاؤ گے۔صرف متقی ہی ایسے ہو ںگے جو اپنے خلیل کے دشمن نہیں ہو ںگے کیو نکہ مومن کا خلیل خدا تعالیٰ ہو تا ہے۔پس وَ لَا خُلَّةٌ سے مراد وہ خلّت ہے جو خدا تعالیٰ کے مقا بلہ میں کسی دوسرے سے کی جائے۔وَ لَا شَفَاعَةٌ میں بتا یا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تم یہیں تعلق پیدا کر لو اور اس کو اپناسا تھی بنا لو۔ورنہ وہاں تمہیں کوئی سا تھی نہیں ملے گا۔دوسری جگہ فر ما تا ہے وَ اَنْذِرِ بِہِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْ يُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِيٌّ وَّ لَا شَفِيْعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ( الانعام:۵۲) یعنی تو اس کلام کے ذریعہ سے ان لو گوں کو جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے ربّ کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائےگا جب کہ اس کے سوا نہ ان کا کو ئی مدد گار۔۔۔۔ہو گا اور نہ کوئی سفا رشی اس لئے ڈرا کہ وہ تقویٰ اختیار کر یں۔اسی طرح ایک اور جگہ فر ماتا ہے۔وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيٌّ وَّ لَا شَفِيْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا (الانعام:۷۱) یعنی تو اس کلام الٰہی کے ذریعہ سے نصیحت کر۔تا ایسا نہ ہو