تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 430

چلا جاتا ہے اور لو گوں کے اعتراضوں کی پرواہ نہیں کرتا۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ اے ایمان دارو! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس میں نہ کسی قسم کی يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ ( خرید و) فروخت نہ دوستی اور نہ شفاعت (کارگر )ہوگی (خدا کی راہ میں جو کچھ ہوسکے)خرچ کر لو۔اور الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۲۵۵ (اس حکم کا )انکار کرنے والے (اپنے آپ پر) ظلم کرنے والے ہیں۔حلّ لُغات۔خُلَّۃٌ اَلْخُلَّۃُ کے معنے ہیں اَلصَّدَاقَۃُ دوستی اور محبت اور تَخَلَّلَتِ الْقَلْبَ کے معنے ہیں۔دَخَلَتْ خِلٰلَہٗ وہ دوستی اور محبت جو دل کے اندر گھس کر اس کے سورا خوں میں داخل ہو جائے۔(مجمع البحا ر) اَلْـخَلِیْلُ مَنْ خُلَّتُہٗ مَقْصُوْرَۃٌ عَلٰی حُبِّ اللّٰہِ تَعَا لٰی فَلَیْسَ فِیْھَا لِغَیْرِ ہٖ مُتَّسَعٌ وَلَا شِرْکَۃٌ مِنْ مَحَابِّ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ( مجمع البحار) خلیل اُسے کہتے ہیں جس کی محبت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے سا تھ ہو اور اس کے دل میں اس محبت کے سوا اور کسی کی محبت نہ ہو۔حدیث میں آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول درج ہے کہ اِنِّیْ اَبْرَءُ مِنْ کُلِّ ذِیْ خُلَّۃٍ مِنْ خُلَّتِہٖ لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذً اخَلِیْلًا لَاتَّخَذْ تُ اَبَا بَکْرٍ۔(مسند احمد بن حنبل مسند المکثرین من الصحابۃ مسند عبد اللہ بن مسعودؓ ) یعنی میں ہر شخص کی دوستی سے براء ت کا اظہار کر تا ہوں اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف تو جہ کر تا ہوں۔اگر دنیا میں مَیں کسی کو خلیل بنا تا تو ابو بکرؓ کو بنا تا۔شَفَاعَۃٌ شَفَعَ سے نکلا ہے اور شَفَعَ کے معنے جفت کے ہیں۔یُقَالُ شَفَعَ الْعَدَدَ وَشَفَعَ الصَّلٰوۃَ صَیَّرَھَا شَفَعًا۔یعنی شَفَعَ الْعَدَدَ کے معنے ہیں عدد کو جفت بنا یا اور شَفَعَ الصَّلٰو ۃَ کے معنے ہیں نماز کو جوڑا بنا دیا۔(اقرب) تفسیر۔اس آ یت سے ظا ہر ہے کہ اسلام نے صرف زکوٰ ۃ اور مالِ غنیمت کے اموال سے ہی غرباء اور مسا کین کی امداد کے لئے ایک فنڈ مقرر کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ مسلما نوں کو عام طور پر بھی غر یبوں اور نا داروں کے