تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 429
ان الفاظ میں بیان فر مائی ہے کہ وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠ (الما عون: ۵) یعنی بعض نمازیں پڑھنے والے ایسے ہیں کہ نماز ان کے لئے ویل اور لعنت بن جا تی ہے۔مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چو نکہ پوری بات کھول کر بتا دی تھی اس وجہ سے انہیں دھوکہ نہ لگا۔یہ کھول کر بتا نا بھی حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطا بق تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ’’جب وہ روح حق آ ئے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتا ئے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی بلکہ جو کچھ سنے گی سوکہے گی‘‘۔(یو حنا باب ۱۶ آیت ۱۳) بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بات کو واضح کر نے کی وجہ سے با وجود اس کے کہ آ پ نے بھی وہی بات کہی تھی جوحضرت مسیح علیہ السلام نے کہی تھی مسلمانوں کو دھو کا نہ لگا۔اور انہوں نے شر یعت کو لعنت نہ قرار دیا بلکہ صرف اس عمل پر شر یعت کو لعنت قرار دیا جس کے ساتھ دل کا تقدس اور اخلاص اور تقویٰ شامل نہ ہو۔مگر مسیحیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے کلام سے دھوکا کھا یا اور جب ان کی روحانیت کمزور ہوئی تو انہوں نے اپنی کمزوری کے اثر کے ماتحت غلط تاویلوں کا راستہ اختیار کر لیا اور شریعت کو لعنت قراد دینے لگے اور یہ خیال نہ کیا کہ اگر وہ لعنت ہے تو حضرت عیسٰی علیہ السلام اور ان کے حواری روزے کیوں رکھتے تھے عبادتیں کیوں کر تے تھے؟ ان امور سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ ظاہری عبادت کو لعنت نہیں سمجھتے تھے بلکہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ظاہر کے ساتھ باطن کی اصلاح نہ کی جا ئے تو وہ ظاہر لعنت بن جاتا ہے۔غر ض اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ کے یہ معنے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پا کیزگئ قلب کے خاص راز ظاہر کئے گئے تھے اور قدوسیت اور با طنی تعلیم پر زور دینے کے لئے ان کو خا ص طور پرحکم دیا گیا تھا اور ظاہری احکام کی باطنی حکمتیں انہیں سمجھا ئی گئی تھیں۔گویا ان کے دور میں تصوف نے زما نہ بلو غت میں قدم رکھنا شروع کر دیا تھا۔وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا میں بتا یا کہ اتنے نبیوں کے واقعات دیکھنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ سنبھل جاتے اور آ ئندہ ان کے بارہ میں کو ئی مخالفانہ رویہ اختیار نہ کرتے۔لیکن اس رسول کے آ نے پر انہوں نے پھر اختلاف کیا اور بعض تو ایمان لے آئے اور بعض نے انکار کر دیا۔وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ۔اور اگر اللہ چا ہتا یعنی لو گوں کو جبراً ہدایت دینا چا ہتا تو کوئی اختلاف نہ ہو تا۔مگر چو نکہ انسان کی پیدا ئش کی غرض ہی یہی تھی کہ اسے آ زادا نہ طور پر نیکی اور بدی میں حصہ لینے کا مو قعہ دیاجائے اوراللہ تعا لیٰ یہ فیصلہ فر ما چکا تھا کہ ہم انسان کو خیر کی بھی مقدرت دیںگے اور شرکی بھی اور پھر جو رستہ وہ اختیار کرےگا اس کے مطا بق ہم اسے نیک یا بد جزا دیں گے۔اس لئے وہ اس فیصلہ کے مطا بق کام کرتا