تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 428
اس لئے اس جگہ کلام سے مرا د کلام شریعت ہے۔اور رَ فَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ کے معنے یہ ہیں کہ بعض کو شر یعت نہیں دی۔ہاں نبوت کے درجہ رفیع پر ان کو سر فراز فر ما یا۔جیسے دوسری جگہ فر ما تاہے وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ۔(البقرة: ۸۸) یعنی ہم نے مو سٰیؑکو کتا ب دی اور اس کے بعد ہم نے اس کی تعلیم کی اشاعت کےلئے پے درپے انبیاء بھیجے۔یہ تمام انبیاء غیر تشر یعی تھے جو مو سوی شر یعت کے تا بع تھے۔پھر فر ماتا ہے وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَ اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ہم نے عیسٰی بن مریم کو کھلے کھلے نشانات دئیے اور روح القدس کے ساتھ اس کی تا ئید کی۔اس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنے والا ہے کہ اس سورۃ میں چو نکہ یہود مخاطب ہیں۔اس لئے حضرت مسیح ؑ کے ذکر کے سا تھ ہی ان کی بعض صفات بھی بتا دی جا تی ہیں تا کہ دشمن پر حجت ہو۔اس سے ان کی کسی خا ص فضیلت کا اظہار مقصود نہیں ہوتا۔جیسا کہ مسیحیوں نے سمجھا ہے۔اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ فر ما کر اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ئی نئی شریعت نہیں لائے تھے بلکہ انہوں نے تورات کے بعض مضامین کو نمایاں طور پر دنیا کے سا منے پیش کیا تھا اور روح القدس سے اللہ تعا لیٰ نے ان کی تائید فر ما ئی تھی۔کیونکہ گو مو سوی دور میں شر لعیت کی تکمیل ہو گئی تھی لیکن آ ہستہ آ ہستہ لو گوں کی نگاہ مغز سے ہٹ کر صرف چھلکے کی طرف آ گئی۔پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تا کہ ایک طرف تو تورات کے احکام پر عمل کرا ئیں جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے۔’’ یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتا بوں کو منسو خ کر نے آ یا ہوں۔منسوخ کر نے نہیں بلکہ پورا کر نے آ یا ہوں‘‘۔(متی باب ۵ آ یت ۱۷) اور دوسری طر ف وہ لوگ جو با لکل اس کے چھلکے کو پکڑ کر بیٹھ گئے تھے ضروری تھا کہ ان کی اصلاح کی جاتی۔اور اس نکتہ کو کھول کر بیان کیا جاتا کہ ظاہری شریعت اس دنیا کی زندگی کو درست کر نے کے لئے اور باطنی شریعت کے قیام میں مدد دینے کے لئےہے۔ورنہ اصل چیز صرف با طنی صفائی اورپا کیزگی اور تقدس ہے۔سواللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰیعلیہ السلام سے یہ کام لیا۔انہوں نے ایک طرف تو مو سوی احکام کو دوبارہ اصل شکل میں قائم کیا اور دوسری طرف جو لوگ قشر کی اتباع کر نے والے تھے انہیں بتا یا کہ اس ظاہر کا ایک با طن ہے۔اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو ظاہر لعنت بن جاتا ہے۔نما زیں بڑی اچھی چیز ہیں لیکن اگر تم صرف ظاہری نماز ہی پڑھو گے اور با طنی نہیں پڑھو گے تو وہ نماز تمہارے لئے لعنت بن جا ئےگی۔(متی باب ۶ آیت ۴ تا ۱۸)روزہ بڑی اچھی چیز ہے لیکن اگر تم ظاہری روزہ کے سا تھ با طنی روزہ نہ رکھو گے تو یہ ظاہری روزہ لعنت بن جائےگا یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے