تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 424
کے ہیں۔یعنی تباہی اور بر بادی ڈھا نے اور لوٹ مار مچانےوالی روحیں۔جو اِدھر اُ دھر دوڑتی پھر تی ہوں۔اور جا ئل جو اصل میں جا لوت ہے اس قوم کو کہتے ہیں جو ہر طرف قتل وغارت اور تبا ہی و بر بادی کا بازار گر م کر نے والی ہو۔بائیبل سے بھی ثابت ہے کہ جدعون کا دشمن ایک آ وارہ گرد گروہ تھا جو ملک میں فساد پھیلاتا پھر تا تھا۔چنا نچہ لکھا ہے کہ وہ لوگ جب حملہ کر تے تھے تو سب کچھ بر باد کر دیتے تھے۔پس یہاں جالوت سے کو ئی ایک شخص مرادنہیں بلکہ ایک گروہ مراد ہے۔جس نے بنی اسرائیل پر عرصہء حیات تنگ کر رکھا تھا۔بائیبل بتا تی ہے کہ جد عون نے ان کو شکست دی اور اس کے بعد ستر سال تک اس کی حکومت رہی۔یعنی چا لیس سال تک وہ خود حکومت کر رہا اور تیس سال تک اس کا بیٹا۔اور اس کے نتیجہ میں متحدہ قومیت کی روح یہود میں تر قی کر گئی(قضاۃ باب ۸ آیت ۲۸)۔اس کے بعد فر ما تا ہے۔وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ داؤد نے جا لوت کو قتل کر دیا۔یہاں جدعون کے واقعہ کے تسلسل میں ایک نیا واقعہ حضرت داؤدعلیہ السلام کا بیان کیا گیا ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت داؤدعلیہ السلام کا واقعہ جدعون کے واقعہ سے بہت کچھ ملتا ہے جدعون کے وقت فلسطینیوں نے اسرائیل کو فلسطین سے نکالنے کی بےشک کو شش کی تھی۔اور جدعون نے ان کا مقا بلہ کیا اور انہیںشکست دی(قضاة باب ۸ آیت ۱ تا ۱۲)۔لیکن وہ ابتدائی کو شش تھی جو حضرت داؤدعلیہ السلام کے زما نہ میں آ کر ختم ہوئی۔اور انہوں نے دشمن کو کلّی طور پر تباہ وبرباد کر دیا۔پس اس واقعہ کو مشابہت مضمون کی وجہ سے اس کے سا تھ بیان کیا گیا ہے۔ورنہ پہلا جد عون کا واقعہ ہے۔اوریہ داؤد ؑکا واقعہ ہے اور دونوں میں دو سو سال کا فاصلہ ہے۔اب صرف ایک سوال حل طلب رہ جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ بائیبل کی رو سے تو داؤد نے جا لوت کو قتل کیا تھا۔(۱۔سمو ایل باب ۱۷ آ یت ۵۰،۵۱) لیکن قرآن کریم نے جد عون کے واقعہ میں بھی جا لوت کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَیعنی جب وہ جا لوت اور اس کی فو جوں کے مقابلہ کےلئے نکلے۔تو انہوں نے کہا۔اے ہمارے ربّ! ہم پر قوتِ برداشت نازل کر اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور کفار کے خلاف ہماری تائید اور نصرت فر ما۔اِس کے متعلق یاد رکھنا چا ہیے کہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے۔جا لوت ایک صفاتی نام ہے۔اور اس سے مراد ایسا گروہ ہے جو ملک میں فساد کرتاپھرے اور چونکہ جدعون کا دشمن بھی ایک آ وارہ گرد گروہ تھا جو ملک میں فساد پھیلا تا پھر تا تھا اور حضرت داؤدعلیہ السلام نے ملک میںامن قائم کر نے کے لئے جس دشمن کا مقابلہ کیا وہ بھی آ وارہ گرد اور فسادی تھا۔اِس لئے دونوں کے دشمنوں کو صفاتی لحاظ سے جا لوت کہا گیا ہے۔اور ان دونوں کا اکٹھا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ